خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 571

خطبات مسرور جلد 13 571 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء گیانا میں ایران میں مبلغ کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔پھر اس کے بعد مرکزی دفاتر میں انجمن میں اور تحریک جدید میں خدمات انجام دیتے رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جب قواعد وصیت پر غور کے لئے کمیٹی بنائی تو حضرت مولوی صاحب بھی اس کے ممبر تھے۔آپ نے عربی ، انگریزی اور فریج میں تقریباً گیارہ کتابیں لکھیں۔ان کی دو شادیاں تھیں۔پہلی تو چوہدری محمد دین صاحب کی بیٹی کے ساتھ تھی جو سیالکوٹ کے ساہی تھے۔دوسری شادی ان کی ماریشس میں ہوئی۔قبولیت دعا کا اپنا بچپن کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک دفعہ جب آپ کی عمر دس بارہ سال تھی آپ کی والدہ شدید بیمار ہوگئیں اور بچنے کی امید نہیں رہی تو آپ کہتے ہیں اس تصور سے کہ والدہ فوت ہو جائیں گی میرا دل بیٹھ گیا۔میں نے دعا کی کہ اے میرے خدا! کیا اسی عمر میں مجھے ماں کے سائے سے محروم کر دے گا۔کہتے ہیں ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ والد صاحب گھر سے نکل کر میری طرف آتے دکھائی دیئے اور آتے ہی کہا کہ فضل الہی ! تیری والدہ ٹھیک ہو گئی۔کبا بیر، فلسطین میں بھی یہ رہے ہیں۔شریف عودہ صاحب لکھتے ہیں کہ آپ فلسطین میں 1966ء تا 68ء اور 77ء تا 81ء رہے۔کہا بیر میں قیام کے دوران تبلیغ اور تربیت کے کام بہت محنت اور لگن سے کیا کرتے تھے۔لوگوں کے گھروں میں جا کر دین کے درس اور تفسیر القرآن کے درس دیتے تھے۔احمدیہ سکول کبابیر کے انتظامی معاملات کو بہت بہتر کیا۔اسی طرح کثرت سے تبلیغی دورے کیا کرتے تھے اور مختلف جگہوں پر جا کر جماعتی لیف لیٹس تقسیم کیا کرتے تھے۔کہتے ہیں میں چھوٹا تھا لیکن ان کے ساتھ تبلیغی دوروں پر جایا کرتا تھا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔مرحوم بہت محنت کرنے والے اور دین کی خدمت کرنے کی ایک مثال تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام أَنتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتَهُ و ہمیشہ پیش نظر رکھتے تھے اور کبھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔وہاں ایک مجلہ بھی آپ نے ”البشری“ شائع کیا اور خود ہی اس پر کام کرتے تھے۔خود ہی اس کی کمپوزنگ کرنا اور لکھنا، چھاپنا یہ سارا کچھ آپ کے سپر دتھا اور کہا بیر کی جو مسجد ہے اس کی ابتدا بھی آپ نے ہی کی تھی اور بنیادی اینٹ بھی آپ نے رکھی تھی۔ایک دفعہ آپ نے بتایا کہ 1940ء میں آپ کے والد حضرت کرم الہی صاحب جب ریٹائر ہو گئے تو گھر میں بہت تنگی کا سامنا ہوا۔یہاں تک کہ جب قادیان میں پڑھتے تھے۔تو وہاں مدرسہ احمدیہ کو فیس بھی نہ ادا کر سکتے تھے۔ایک دن پرنسپل صاحب ( ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ ) کی طرف سے نوٹس ملا کہ سات یوم کے اندر فیس ادا کر دور نہ مدرسے سے نکال دیئے جاؤ گے۔اس پر آپ نے مدرسہ جانا چھوڑ دیا۔کچھ