خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 570 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 570

خطبات مسرور جلد 13 570 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء تھی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔1918ء میں یہ کرم چوہدری کرم الہی صاحب چیمہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔مولوی صاحب نے 24 نومبر 1944 ء کو زندگی وقف کی۔3 رجون 1946ء میں قادیان پہنچے اور ان کی با قاعدہ ریٹائرمنٹ 1978ء میں ہوئی لیکن 1993 ء تک آپ ری ایمپلائی(re employ) ہوتے رہے۔جماعتی خدمات با قاعدہ کارکن کی حیثیت سے انجام دیتے رہے۔لیکن اس کے بعد بھی تا دم آخر انہوں نے رضا کارانہ طور پر جماعت کا بہت سارا کام خاص طور پر پروف ریڈ نگ وغیرہ کا کام کیا۔لکھتے ہیں کہ ان کے والد کرم الہی صاحب نے 1898ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی اور پھر ایک سال کے بعد ان کے دادا چوہدری جلال دین صاحب نے بیعت کی۔ان کے والد کا جماعت سے، خلافت سے بڑا مضبوط تعلق تھا اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی رہنمائی فرماتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ اول کی فوری طور پر انہوں نے بیعت کی اور حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد فوری طور پر انہوں نے خلافت ثانیہ کی بیعت کی بلکہ ان کو خواب میں دکھایا گیا تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی آئندہ خلیفہ ہیں۔ان کی وصیت تھی اور انہوں نے 8/1 کی وصیت کی ہوئی تھی۔مولوی صاحب خود ہی اپنے وقف ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ان کی والدہ صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ میں ابھی گود میں تھا۔غالباً جلسہ سالانہ قادیان 1919 ء یا 1920 ء کا تھا کہ زنانہ جلسہ گاہ میں حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے مستورات میں تقریر کی کہ بیبیو! ہم تو بوڑھے ہو رہے ہیں، اب دین کی خدمت کے لئے قائمقاموں کی ضرورت ہے۔تم اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرو۔ان کو قادیان دینی تعلیم کے لئے بھیجو۔اس تقریر کے دوران والدہ صاحبہ نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا اور دعا کی کہ یہ بچہ فضل الہی خدا کی راہ میں وقف کروں گی۔چنانچہ 1931ء میں جب آپ مڈل میں داخل ہوئے تو آپ کے والد صاحب نے آپ کو والدہ کے اس عہد کے متعلق بتایا اور کہا کہ اگر تم دنیاوی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہو تو میں تمہیں بعد میں جب تعلیم حاصل کر لو تو اتنی میری پوزیشن ہے کہ تحصیلدار لگواسکتا ہوں جو اس زمانے میں بڑا اعزاز تھا۔لیکن آپ نے فوراً کہا کہ میں وقف کر کے قادیان دارالامان جاؤں گا۔23 فروری 1947ء کو آپ دیگر مربیان کے ہمراہ مشرقی افریقہ میں ممباسہ کی بندرگاہ پر پہنچے۔ان مربیان میں میر ضیاء اللہ صاحب ، مولوی جلال الدین صاحب قمر، سید ولی اللہ شاہ صاحب، حکیم محمد ابراہیم صاحب اور مولوی عنایت اللہ صاحب شامل تھے اور مشرقی افریقہ میں رئیس التبلیغ شیخ مبارک احمد صاحب تھے۔ایک لمبا عرصہ ان کو کینیا میں ، سورینام میں،