خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 560

خطبات مسرور جلد 13 560 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء کسی کو عمدہ کھانا کھاتے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ بزرگ کس طرح کہلا سکتا ہے۔( یعنی کہ تصور ہی نہیں کہ کوئی بزرگ کہلائے اور پھر اچھا کھانا بھی کھا سکے ) آپ ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ امسیح الاول مسجد اقصیٰ میں درس دے کر واپس اپنے گھر تشریف لے جا رہے تھے کہ جب آپ وہاں پہنچے (اُس زمانے میں جو اُس وقت کا قادیان ہے ) جہاں نظارتوں کے دفاتر ہوتے تھے تو کہتے ہیں وہاں حضرت خلیفہ اول کو وہاں کے رہنے والے ایک ڈپٹی صاحب ملے جو ریٹائرڈ تھے اور ہندو تھے۔انہوں نے کسی سے سن لیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پلاؤ کھاتے ہیں اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔یعنی مستقل نہیں جب بھی مل جائے، میٹر ہو، جب پکا ہو تو کھاتے ہیں اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔وہ ہندو اس وقت اپنے مکان کے باہر بیٹھا تھا۔حضرت خلیفہ اول کو دیکھ کر کہنے لگا کہ مولوی صاحب! ایک بات پوچھنی ہے۔مولوی صاحب نے (حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ فرماؤ کیا ہے؟ وہ کہنے لگا جی بادام روغن اور پلاؤ کھانا جائز ہے ؟ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ہمارے مذہب میں یہ چیزیں کھانی جائز ہیں۔( ہمیں تو کوئی روک نہیں۔) وہ پنجابی میں کہنے لگا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ فقراں نوں بھی کھانی جائز اے۔یعنی فقرے جو ہیں، فقیر لوگ جو ہیں، اللہ کی طرف کو لگانے والے لوگ ہیں ان کے لئے بھی کھانی جائز ہے؟ جو بزرگ ہوتے ہیں کیا ان کے لئے بھی یا جن کو بزرگ کہا جاتا ہے ان کے لئے بھی کھانی جائز ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہمارے مذہب میں تو فقیروں کے لئے ان سب کے لئے جائز ہے جو بھی بزرگ کہلانے والے ہیں۔کہنے لگا اچھا جی۔اور یہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں دیکھو اس شخص کو بڑا اعتراض یہی سوجھا کہ حضرت مرزا صاحب مسیح اور مہدی کس طرح ہو سکتے ہیں جب وہ پلاؤ کھاتے ہیں اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اگر صحابہ کا بھی ویسا ہی علمی مذاق ہوتا جیسے آجکل احمدیوں کا ہے اور وہ کدو کا ذکر حدیثوں میں نہ کرتے تو کتنی اہم بات ہاتھ سے جاتی رہتی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جمعہ کے دن اچھا سا بجبہ پہن کر مسجد میں آئے۔اب اگر کوئی شخص ایسا پیدا ہو جو یہ کہے کہ اچھے کپڑے نہ پہننا فقیروں کی علامت ہے، (بزرگوں کی علامت ہے، نیکوں کی علامت ہے ) تو ہم اسے اس حدیث کا حوالہ دے کر بتا سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نہایت تعتمد سے صفائی کرتے اور اعلیٰ اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے بلکہ آپ صفائی کا اتنا تعتمد رکھتے ، (اتنی پابندی فرماتے ) کہ بعض صوفیاء نے جیسے شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی گزرے ہیں یہ