خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 559 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 559

خطبات مسرور جلد 13 559 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء آنے والی نسلوں کے لئے نصیحت اور حقیقی تعلیم اور بعض مسائل کا حل پیش کرنے والی ہوں گی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :۔حضرت مسیح موعود کے حالات جمع کرنے کی تحریک ایک بات جس کی طرف میں نے اس سال جماعت کو خصوصیت سے توجہ دلائی ہے۔(جب یہ بات آپ فرما رہے ہیں ) اور وہ اتنی اہم ہے (اس کی ساری بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ ایک زمانے میں جماعت میں فتنہ اٹھا اس فتنے کو آپ بیان فرما رہے ہیں کہ کس طرح ہمیں روکنا چاہئے اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہمیں پہنچتی ہے وہ ہمارے لئے مددگار ہوتی ہے ہمیں بہت سارے فتوں سے بچانے والی ہوتی ہے اور بہت سی برائیوں سے روکنے والی ہوتی ہے۔تو بہر حال آپ فرماتے ہیں ) کہ جتنی بار اس کی اہمیت کی طرف جماعت کو متوجہ کیا جائے کم ہے اور وہ بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات اور آپ کے کلمات صحابہ سے جمع کرائے جائیں۔فرماتے ہیں کہ ہر شخص جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی یاد ہو اس کا اس بات کو چھپا کر رکھنا اور دوسرے کو نہ بتانا یہ ایک قومی خیانت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض باتیں چھوٹی ہوتی ہیں مگر کئی چھوٹی باتیں نتائج کے لحاظ سے بہت اہم ہوتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں اب یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے جو حدیثوں میں آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک دفعہ کڈ وپکا۔( تر کاری جو کڈ و کی ہے۔تو آپ نے بہت شوق سے اس سالن میں سے کدو کے ٹکڑے نکال نکال کے کھانے شروع کئے یہاں تک کہ شور بے میں کدو کا کوئی ٹکڑا نہ رہا اور آپ نے فرمایا کہ کتد و بڑی اعلی چیز ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔ممکن ہے کئی احمدی بھی سن کر یہ کہہ دیں کہ کڈو کے ذکر کی کیا ضرورت تھی ( اور آجکل بعض پڑھے لکھے بھی زیادہ بنتے ہیں ان کو ان باتوں کی طرف توجہ نہیں ہوتی یا وہ سمجھتے ہیں کہ معمولی بات ہے مگر اس چھوٹی سی بات سے اسلام کو کتنا بڑا فائدہ پہنچا۔مسلمانوں پر تمدن کے اثرات ہم آج اپنے زمانے میں ان خرابیوں کا اندازہ نہیں کر سکتے جو مسلمانوں میں رائج ہوئیں مگر ایک زمانہ اسلام پر ایسا آیا ہے جب ہندوستان میں ہندو تمدن نے مسلمانوں پر اثر ڈالا اور اس اثر کی وجہ سے وہ اس خیال میں مبتلا ہو گئے کہ نیک لوگ وہ ہوتے ہیں جو گندی چیزیں کھائیں۔( جو اچھی چیز نہ کھائیں، جو اعلیٰ قسم کی غذا نہ کھائیں، نیکی کا معیار یہ ہے۔کیونکہ یہی فقیروں اور جوگیوں کا شیوہ ہے۔) اور جب بھی وہ