خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 555 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 555

خطبات مسرور جلد 13 555 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء علاقے سے سات افراد پر مشتمل ایک وفد لے کر آئے اور پھر قریباً دس دن مشن ہاؤس میں قیام کیا۔اسلام اور عیسائیت کا موازنہ تثلیث اور کفارہ کے مسئلے زیر بحث آئے۔نیز اسلام کی تعلیمات کی خوبصورتی اور برتری سے آگاہ کر کے جماعت احمدیہ کا تعارف کروایا گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈومنگو صاحب اور ان کی اہلیہ نے بیعت فارم پر کر کے احمدیت قبول کر لی اور اپنے علاقے میں واپس جا کر اسلام اور احمدیت کی تبلیغ شروع کر دی۔یہاں اپنے علاقے میں جولائی میں تبلیغی پروگرام بھی انہوں نے بنایا۔کہتے ہیں میں پہنچا تو سکول کے ہال میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا۔ارد گرد کے دیہاتوں کے لوگوں کو مدعو کیا ہوا تھا۔بڑی تفصیل سے وہاں اسلامی تعلیم بیان کی گئی۔احمدیت کی تبلیغ کی گئی۔گوئٹے مالا کے احمدیوں نے اپنی قبول احمدیت کے واقعات سنائے۔سوال و جواب ہوئے۔کہتے ہیں یہ مجلس سات گھنٹے جاری رہی۔مجلس کے اختتام سے قبل جملہ حاضرین نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا جن کی تعداد 89 تھی۔ان میں مرد عورتیں سب شامل تھے۔یہاں یورپ سوئٹزرلینڈ سے غالباً ایک صاحب نے لکھا کہ آپ کا فلائر مجھے بہت اچھا لگا۔آپ جو کام کر رہے ہیں یہ خزاں کے موسم کو بہار میں بدلنے کے مترادف ہے۔کبھی نہ کبھی توضرور بہار آئے گی۔یہ غیروں کے تاثر ہیں۔اسی طرح ایک سوئس باشندے نے کہا کہ جو لیف لیٹ میرے لیٹر بکس میں ڈالا گیا اس کا مضمون مجھے بہت پسند آیا۔میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔میری بڑے عرصے سے یہ خواہش تھی کہ کاش مسلمانوں میں سے بھی کوئی ایسا ہو جو اس طرح امن کی مہم چلائے۔آپ لوگوں نے میری خواہش پوری کر دی ہے۔پھر سوئٹزرلینڈ کے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ زیورخ ایک چرچ میں جیکب (Jakob) صاحب ہیں۔جماعت کی خدمات کے بڑے معترف ہیں اور جماعت کو پسند کرتے ہیں۔اس چرچ نے جماعت کے ماٹو محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں، کو لیا ہوا ہے اور سال 2015 ء کا 33 واں ہفتہ اس حوالہ سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے لئے جو معلوماتی لیف لیٹ انہوں نے شائع کیا ہے اس میں انہوں نے بڑے اچھے انداز میں جماعت احمدیہ کا ذکر کیا اور لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کے دو بنیادی اصول ہیں۔ایک یہ فقرہ کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں اور دوسرا یہ فقرہ کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ان دونوں اصولوں پر چلنے سے امن قائم ہو سکتا ہے۔سوئٹزرلینڈ میں اسلام کے خلاف بہت کچھ کہا جاتا ہے۔وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی ہوا ہے کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ خود کھڑا کر رہا ہے۔