خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 529 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 529

خطبات مسرور جلد 13 529 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء پیدائش پر خوشی کی ہوگی مگر جب آپ کی عمر بڑی ہو گئی اور آپ کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو گئی تو آپ کے والد آپ کی اس حالت کو دیکھ کر آہیں بھرا کرتے تھے کہ ہمارا بیٹا کسی کام کے قابل نہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک واقعہ سنایا۔اس کا پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں کہ ایک سکھ نے آپ کو بتایا تھا کہ ہم دو بھائی تھے۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے پاس جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے ہمارے والد صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ ان کے پاس آپ جاتے آتے رہتے ہیں انہیں سمجھا ئیں۔تو یہ کہتے ہیں کہ جب میں مرزا غلام احمد صاحب کے پاس گیا اور ان کو کہا کہ آپ کے والد صاحب کو اس خیال سے بہت دکھ ہوتا ہے کہ ان کا چھوٹا لڑکا اپنے بڑے بھائی کی روٹیوں پر پلے گا، ( کوئی کام نہیں کرتا۔) اسے کہو کہ میری زندگی میں کوئی کام کر لے اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ اچھی نوکری مل جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب نے کہا کہ میں اگر مر گیا تو پھر سارے ذرائع بند ہو جائیں گے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ اس سکھ نے بتایا کہ جب ہم حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے پاس گئے اور آپ کے والد صاحب کے خیال کا اظہار آپ کے سامنے کیا کہ آپ کی حالت دیکھ کے انہیں بہت دکھ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے کہا کہ اگر میں مر گیا تو غلام احمد کا کیا بنے گا؟ تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا کہ آپ اپنے والد کی بات کیوں نہیں مان لیتے ؟ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد کپورتھلہ کی ریاست میں کوشش کر رہے تھے اور کپور تھلے کی ریاست نے آپ کو ریاست کا افسر تعلیم مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔افسرتعلیم مقرر کرنے کی ایک آفر بھی آگئی تھی۔وہ سکھ کہنے لگے کہ جب ہم نے یہ بات کہی کہ آپ اپنے والد صاحب کی بات کیوں نہیں مانتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب دیا کہ میرے والد صاحب تو یونہی غم کرتے رہتے ہیں، انہیں میرے مستقبل کی کیوں فکر ہے۔میں نے تو جس کی نوکری کرنی تھی کر لی ہے۔کہتے ہیں ہم واپس آگئے اور مرزا غلام مرتضی صاحب سے آکر یہ ساری بات کہہ دی۔مرزا صاحب نے کہا کہ اگر اس نے یہ بات کہی ہے تو ٹھیک کہا ہے کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولا کرتا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدا تھی اور پھر ابھی انتہا نہیں ہوئی لیکن جو عارضی انتہا نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی وفات کے وقت ہزاروں ہزار آدمی آپ پر قربان ہونے والا موجود تھا اور پھر اس شعر کا ذکر کیا جو پہلے بھی میں نے پڑھا ہے کہ