خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 528
خطبات مسرور جلد 13 528 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء جاتے ہیں۔اسی طرح متقی میں قناعت بھی ہوتی ہے اور قناعت کی وجہ سے وہ معمولی سنگیوں کو برداشت بھی کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہوتے ہیں، جو نعمت ملتی ہے اس پر اظہار بھی کرتا ہے۔پھر جو اللہ تعالیٰ اس کو دیتا ہے اس کے تھوڑے پر بھی متقی کو خدا تعالیٰ کے شکر کی عادت پیدا ہوتی ہے اور جب خدا تعالیٰ کے شکر کی عادت پیدا ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ مزید فضل فرماتا ہے اور انہی فضلوں کو دیکھتے ہوئے ایک حقیقی مومن پھر قربانیوں کے لئے تیار بھی رہتا ہے اور کرتا بھی ہے۔آج اس زمانے میں اس مضمون کا حقیقی ادراک ہم احمدیوں کو ہے جن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ہے اور آپ کے غلام صادق کا زمانہ اور اسوہ بھی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سب کچھ چھین لیا اور اسی طرح صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی چھین لیا مگر خدا تعالیٰ کے مقابلے میں انہوں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی۔آخر خدا تعالیٰ نے ان کو سب کچھ دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی خدا تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑا اور باوجود اس کے کہ اپنے خاندان میں (جائیداد کے نصف حصے کے مالک تھے آپ کی بھاوج جنہیں خدا تعالٰی نے بعد میں احمدی ہونے کی توفیق دی ہمجھتی تھیں کہ آپ مفت خورے ہیں۔( اور بڑی تنگیاں ہوتی تھیں) مگر ( پھر بھی ) خدا تعالیٰ نے آپ کو سب کچھ دیا۔اس حالت کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کھینچا ہے کہ لْفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكُلِيْ وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِى کہ ایک زمانہ تھا جب میں دوسروں کے ٹکڑوں پر بسر اوقات کرتا تھا مگر اب خدا نے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ ہزاروں لوگ میرے دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 11 صفحہ 313-314) آج ہم احمدیوں کا ایمان یقیناً اس بات سے بڑھتا ہے جب ہم آپ کے ابتدائی زمانے اور بعد کے زمانے کو دیکھتے ہیں۔اس حالت کا مزید نقشہ کھینچتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بھی بیان فرمایا کہ: ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب پیدا ہوئے تو آپ کے ماں باپ نے آپ کی