خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 527
خطبات مسرور جلد 13 527 36 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسر دراحمد خلیفتہ اسی الخامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015 ء بمطابق 04 تبوک 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح موردن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ایک دنیا دار شخص کو جب یہ کہا جائے کہ اگر کسی میں حقیقی تقویٰ پیدا ہو جائے تو اسے دنیا جہان کی سب نعمتیں مل جاتی ہیں تو وہ یقیناً یہ کہے گا کہ یہ سب فضول باتیں ہیں اور مذہب کے نام پر اپنے اردگرد لوگوں کو جمع کرنے کے لئے لوگ یہ باتیں کرتے ہیں۔ہاں یہ بھی ٹھیک ہے کہ آجکل مذہب کے نام پر بعض لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کے ذاتی مفاد ہوتے ہیں لیکن نہ تو ان میں خود تقوی ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے پیچھے چلنے والوں میں تقویٰ ہوتا ہے۔لیکن اس کے مقابلے پر ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء اور ان کی جماعتیں، حقیقی تعلیم پر چلنے والے یہ لوگ تقویٰ کا ادراک رکھتے ہیں۔اس دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کے کاروباروں میں لگے ہونے کے باوجو د تقویٰ کی تلاش کرتے ہیں اور تقویٰ پر چلتے ہیں۔شکت کے نتیجہ میں بے حساب افضال مجھے سینکڑوں خط آتے ہیں جن میں اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں اور ہماری اولادوں میں تقویٰ پیدا کرے۔یہ تبدیلی یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے اور اپنا عہد بیعت نبھانے کے احساس کی وجہ سے ہے۔اس خواہش نے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی خشیت اور خوف نے انہیں دنیا کی چیزوں سے بے پرواہ تو کیا ہے لیکن دنیا کی نعمتوں سے وہ محروم نہیں رہے۔اللہ تعالیٰ انبیاء کو بھی اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے اور ان کے حقیقی مانے والوں اور تعلیم پر چلنے والوں کوبھی ان دنیاوی نعمتوں سے نوازتا ہے۔بعض دفعہ بعض عارضی تنگیاں ہوتی ہیں لیکن پھر اللہ تعالیٰ کے فضل ہوتے ہیں اور حالات بہتر ہو