خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 515
خطبات مسرور جلد 13 515 خطبه جمعه فرموده مورخہ 28 اگست 2015ء حق و صداقت کا راستہ ہے۔کہتے ہیں ایک سال کے دوران میں نے پچاس بار اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھی ہے۔اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیش کردہ فلسفہ غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔چنانچہ موصوف جلسہ دیکھ کر کہنے لگے کہ میں حق کی تلاش میں تھا اور مجھے حق مل گیا ہے۔اسلام احمدیت سے بہتر کوئی طرز زندگی نہیں ہے۔چنانچہ موصوف نے پہلے دن تو بیعت نہیں کی تھی جلسے کے فورابعد اگلے روز یہ میرے پاس آئے کہ انہوں نے بیعت کرنی ہے اور پھر ان کی وہاں مسجد میں بیعت ہوئی تھی۔جاپان سے ایک غیر احمدی دوست ما سایو کی آ کو تو سو (Masayuki Akutsu) صاحب جوٹو کیو یو نیورسٹی کے پروفیسر ہیں جلسہ میں شامل ہوئے۔جماعت احمدیہ کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں اور اس غرض سے یہ ربوہ کا سفر بھی کر چکے ہیں۔موصوف نے بتایا کہ ربوہ کے دورے کے دوران واپسی پر ہمارے معزز میزبان اور گاڑی کے ڈرائیور نے مجھے کہا کہ مہمان نوازی میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو معاف کر دیں۔اس کیفیت نے میرے دل پر بے انتہا اثر کیا اور آج یہاں جلسے پر آیا ہوں تو ایسی اعلیٰ روایات یہاں بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ جماعت احمدیہ کی تعلیم اور عمل جو ہے وہ ایک ہے۔ہر جگہ یہ نمونے نظر آتے ہیں۔سپین سے نیشنل اسمبلی کے دو ممبران پارلیمنٹ آئے ہوئے تھے۔جوس ماریہ (Jose Maria) صاحب تھے۔کہتے ہیں کہ جلسے کے انتظامات دیکھ کر یہی سوچتا رہا کہ ہمیں اس طرح کا انتظام کرنا پڑے تو ہم کیسے کریں گے۔اس وقت دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں۔یہ تینوں دن جلسے کے پروگرام میں شرکت کرتے رہے اور متعدد باراس بات کا اظہار کیا کہ ایسے منظم کام ہماری حکومتیں نہیں کر سکتیں جو یہاں پر رضا کار کر رہے ہیں۔میں اس جلسے پر بہت کچھ سیکھ کر جارہا ہوں۔پس یہ جو رضا کاروں کے، والنٹیئر ز کے، کارکنان کے کام ہیں یہ بھی ان کی ایک خاموش تبلیغ ہے جو یہ کر رہے ہوتے ہیں۔پھر خاتون پارلیمنٹ ممبر جو تھیں کہتی ہیں کہ جماعت احمد یہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے بڑی انتھک محنت کر رہی ہے۔کہتی ہیں کہ میرا سپین کے مشہور تاریخی شہر ٹولیو سے تعلق ہے جہاں کسی دور میں مختلف تہذیبیں جن میں مسلمان، یہودی اور عیسائی شامل ہیں باہم متحد ہو کر امن کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔ہمیں اس دور پر فخر ہے اور سپین کی تاریخ کا وہ ایک سنہری دور تھا۔موصوفہ نے کہا کہ ہزار سال قبل بنوامیہ خاندان سے عبدالرحمن اول سپین آئے اور انہوں نے کہا کہ وہ اس ملک کو اپنا گھر سمجھتے