خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 509
خطبات مسرور جلد 13 509 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اگست 2015ء دوسرے بھی سنتے ہیں۔خاص طور پر برطانیہ کے جلسے کو بہت گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ہم لاکھوں پاؤنڈ ایم ٹی اے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ایم ٹی اے کے ذریعہ پیغام پہنچانے کے لئے صرف اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ ہمارا ایک بہت بڑا مقصد یہ ہے کہ جماعت کا ہر فردا اپنی زندگی کے مقصد کو پانے والا ہو۔اس تک ایک وقت میں پیغام پہنچ رہا ہو۔پس ہماری خوشی اور مبارکبا د صرف جلسے کے کامیاب انعقاد کی مبارکبادوں تک محدود نہ رہے بلکہ یہاں شامل ہونے والے بھی اور دنیا میں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے سننے والے بھی جو انہوں نے سنا ہے، دیکھا ہے اس کی جگالی کرتے رہیں۔اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے اس مادی دور میں ایک دنیاوی مادی ایجاد کو ہماری اصلاح کے لئے، ہماری علمی، عملی اور اعتقادی ترقی کے لئے، بہتری کے لئے ذریعہ بنا دیا ہے۔ٹیلیویژن، انٹرنیٹ، اخبار اور دوسرے اشاعت کے ذرائع جب ہمارے لئے کام کر رہے ہوں تو ایک مومن کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی تھی کہ اس زمانے میں ایسی ایجادیں ہوں گی جو دین کی اشاعت کے لئے ممدو معاون ہوں گی اور ہر روز ہم اس پیشگوئی کو بہتر سے بہتر رنگ میں پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔میں آگے کچھ ذکر کروں گا، پریس کی بھی رپورٹ دوں گا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ یہ پیغام پہنچاتا ہے۔پس ہمیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس بات پر شکر گزاری کے اظہار میں ہمیشہ بڑھتے چلے جانے والا ہونا چاہئے کہ یہ شکر گزاری ہمیں اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق مزید انعامات اور ترقیات سے نوازے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم : 8 )۔کہ اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا اور بھی زیادہ بڑھاؤں گا۔شکر گزاری کا یہ مضمون جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونے کا راستہ دکھاتا ہے وہاں بندوں کی شکر گزاری کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔(سنن الترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى الشكر لمن احسن الیک حدیث نمبر 1955) بہت سارے والٹیئر تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کام کرنے والوں کو توفیق دی کہ انہوں نے جلسے کے انتظامات کو بہترین شکل دینے کی کوشش کی۔ٹرانسپورٹ ہے۔رہائش ہے۔کھانا پکانا ہے۔جلسہ گاہ ہے۔مختلف پروگرام ہیں۔صفائی کا کام ہے۔گرمی میں پانی پلانے کا انتظام ہے۔آواز پہنچانے کا انتظام ہے اور دنیا تک پھر آواز اور یہاں کے نظارے پہنچانے کا انتظام جو ایم ٹی اے نے کیا ہے۔غرض کہ اگر