خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 504 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 504

خطبات مسرور جلد 13 504 خطبه جمعه فرموده مورخه 21 اگست 2015ء درخواست حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی خدمت میں پیش کی۔اور حضرت مصلح موعودؓ نے درخواست کو از راہ شفقت منظور فرمایا۔اس کے بعد تعلیم الاسلام کالج قادیان میں فلاسفی کے لیکچرر کے طور پر آپ کی تقرری ہوئی تقسیم ہند کے بعد آپ پہلے لاہور میں اور پھر ربوہ میں اسی کالج سے وابستہ رہے۔اس طرح آپ تعلیم الاسلام کالج کے بانی اساتذہ میں شامل ہوتے ہیں۔کالج میں آپ فلسفہ، نفسیات، ادب اور انگریزی زبان پڑھاتے رہے۔جون 1967ء میں حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔اسی طرح یہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دورہ افریقہ اور یورپ کے دوران بھی آپ کے ساتھ تھے۔ان کو معیت کا شرف حاصل ہوا۔1984ء میں آپ کا تقرر جامعہ احمدیہ میں بطور انگریزی کے پروفیسر کے ہوا جہاں آپ نے شعبہ انگریزی کے سر براہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔اسی طرح اس دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے تراجم کی سعادت بھی آپ کو لی۔جب وکالت وقف نو کا قیام ہوا تو چو ہدری محمد علی صاحب کو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے پہلا وکیل وقف نو مقرر فرمایا۔پھر 1998ء میں تراجم کے کام کی وسعت کے پیش نظر حضرت خلیفہ المسیح الرابع ” کی طرف سے آپ کو وکیل التصنیف مقرر فرمایا گیا۔اور آخر دم تک آپ اس خدمت پر مامور رہے۔آپ نے سلسلے کی بہت سی کتب کا اردو سے انگریزی میں ترجمہ کرنے کی توفیق پائی۔اس طرح آپ کو تقریباً 71 سال سلسلہ کی خدمات کی توفیق ملی۔ایک طویل عرصہ تک پنجاب یونیورسٹی کے سینٹ اکیڈیمک کونسل اور بورڈ آف سٹڈیز کے ممبر رہے۔یہ بہت ہی بڑا اعزاز ہے۔آپ اردو ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔اردو اور پنجابی زبان کے بلند پایہ قادر الکلام شاعر تھے۔بڑے محنتی منتظم تھے۔ہمدرد استاد تھے۔مشفق نگران تھے۔خلافت کے سچے مطیع اور فرمانبردار تھے۔نظام جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والے بزرگ تھے۔ریا کاری سے پاک نرم خو، نرم زبان، انسانیت کے ہمدرد اور نیک انسان تھے۔اور یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔13 اگست کو بھی آپ دفتر تشریف لائے اور تمام وقت دفتری امور کی انجام دہی کے بعد گھر گئے جہاں ان کو ہارٹ اٹیک ہوا۔فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن جانبر نہ ہو سکے اور 13 اور 14 اگست 2015ء کی درمیانی شب اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔پسماندگان میں ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ کہتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا۔قادیان میں چھٹی ساتویں کا