خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 503

خطبات مسرور جلد 13 503 خطبه جمعه فرموده مورخه 21 اگست 2015ء کے جذبے سے سرشار تھے۔پیچھے رہ کر خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔والدین کی بھر پور خدمت کرنے والے تھے۔شہید مرحوم خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور اس وقت بحیثیت سیکرٹری امور عامه تونسہ شریف خدمت کی توفیق پا رہے تھے اور اس کے علاوہ خدام الاحمدیہ میں بھی مختلف جگہوں پر ان کو جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔11 جولائی 2015 ء کو وہاں کچھ لوگوں نے تونسہ شریف کی جماعت کی مسجد پر حملہ کیا تھا اور فائرنگ کر کے وہ لوگ فرار ہو گئے تھے۔تو یہ اس کیس کی بھی پیروی کر رہے تھے۔ان کو مستقل دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔جماعت کے خلاف بھی، ان کے خلاف بھی مخالفانہ اشتہارات آویزاں کئے جا رہے تھے۔لیکن بہر حال اس کے باوجود یہ بڑی جرات ، بہادری سے سب کا سامنا کر رہے تھے۔سماجی لحاظ سے بھی نمایاں اثر و رسوخ کے مالک تھے اور علاقے میں صاحب اثر تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بلا توقف آجائیں۔شہید مرحوم نے پسماندگان میں بھائی بہنوں کے علاوہ والدہ محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ، اہلیہ فوزیہ یاسمین صاحبہ) اور دو بچیاں ایک بیٹی رافعہ مریم عمر چار سال اور بیٹا عزیزم کا شف عمر دو سال چھوڑے ہیں۔دونوں بچے وقف تو تنظیم میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید بھائی کے درجات بلند فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم ومحترم پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب ایم اے کا ہے جو آجکل وکیل التصنیف تحریک جدید تھے۔14 اگست 2015ء کو ان کی وفات ہوئی۔تعلیمی ریکارڈ کے مطابق ان کی پیدائش 1917 ء کی ہے۔چھوٹی عمر میں ان کو احمدیت سے تعارف ہوا۔زمانہ طالبعلمی میں حضرت مولوی ظہورحسین صاحب مربی بخارا کے اسلام کے دفاع میں ایک پنڈت سے کئے گئے مناظرہ سے آپ پر احمدیت کا اچھا اثر پڑا۔گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران محترم قاضی محمد اسلم صاحب جو وہاں پروفیسر تھے، صدر شعبہ فلاسفی بھی تھے ان کی شخصیت اور اوصاف حمیدہ اور دعوت الی اللہ کی وجہ سے 1941ء میں آپ کو نوجوانی میں احمدیت کو قبول کرنے کی توفیق ملی۔پھر آخری دم تک سلسلے کی خدمت میں مصروف رہے۔آپ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنے گاؤں میں بھی اکیلے احمدی تھے۔بڑی جوانمردی سے آپ نے ان تمام حالات کا مقابلہ کیا۔گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے فلاسفی کیا۔پھر آپ نے 9 اپریل 1944ء کو وقف زندگی کی