خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 502
خطبات مسرور جلد 13 502 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 اگست 2015ء تو میں اس وقت دو جنازہ غائب پڑھاؤں گا جن میں سے ایک ہمارے ایک شہید نوجوان کا جنازہ ہے اور ایک دیرینہ اور بہت پرانے خادم سلسلہ کا جنازہ ہے۔ان کے ساتھ عمومی طور پر اس سال رخصت ہونے والوں کو بھی شامل رکھیں۔عام طور پر تو دعاؤں میں رخصت ہونے والوں کو شامل کیا جاتا ہے لیکن کیونکہ آج جنازے ہور ہے ہیں اس لئے یہ بھی شامل رکھیں۔پہلا جنازہ جیسا کہ میں نے کہا شہید کا ہے۔مکرم اکرام اللہ صاحب شہید ابن مکرم کریم اللہ صاحب، یہ تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان کے تھے۔ان کو مخالفین نے مؤرخہ 19 اگست 2015ء کو بعد نماز مغرب ان کے میڈیکل سٹور پر آ کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔وقوعہ کے روز 19 /اگست 2015ء کو شہید مرحوم اپنے میڈیکل سٹور پر تھے کہ دوموٹر سائیکلوں پر چار مسلح افراد نے سٹور پر آ کر فائرنگ کر دی اور فرار ہو گئے۔حملہ آور جاتے ہوئے ہوائی فائرنگ بھی کرتے رہے اور اللہ اکبر کے نعرے بھی لگاتے رہے اور کہتے رہے کہ ہم نے کافر کو مار دیا۔شہید مرحوم کو جسم کے مختلف حصوں پر گیارہ گولیاں لگیں۔ایک گولی آنکھ پر لگی اور آر پار ہو گئی جس سے موقع پر ہی شہادت ہوگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا مکرم سردار فیض اللہ خان صاحب نیکانی کی ہمشیرہ محترمہ سردار بیگم صاحبہ کے ذریعہ سے ہوا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہلے تحریری بیعت بھجوائی اور بعد ازاں 1905ء میں اپنے خاوند کے ہمراہ قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔محترمہ سردار بیگم صاحبہ کے بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد مکرم سردار فیض اللہ صاحب نے بھی بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔مکرم سردار فیض اللہ صاحب امیر ضلع ڈیرہ غازی خان رہ چکے ہیں۔دس سال قبل یہ تونسہ کے قریب ایک جگہ ہے وہاں سے تونسہ شفٹ ہوئے تھے۔اکرام اللہ صاحب 1978ء میں رکھ مور جھنگی ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔شہید مرحوم نے گرا یجویشن کی ، ڈسپنسر کا کورس کیا اور تعلیم کے بعد اپنی ڈسپنسری کھول لی۔اور پھر نو سال قبل تونسہ شریف میں اپنا میڈیکل سٹور بنایا۔اور کچھ عرصہ انہوں نے ملازمت بھی کی تھی۔2009ء میں ان کی شادی ہوئی۔انتہائی ایماندار، نیک دل ، نیک سیرت، شریف النفس اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔نہایت مخلص اور فدائی نوجوان تھے۔سیلاب کی وجہ سے پورا علاقہ متاثر ہوا جس کی بناء پر ان کو نمایاں خدمت کا موقع ملا۔شہید مرحوم اکثر غریبوں کو مفت ادویات دیا کرتے تھے۔خدمت