خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 497

خطبات مسرور جلد 13 497 خطبه جمعه فرموده مورخه 21 اگست 2015ء پس یہ دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلی جذبات اپنی جماعت کے افراد میں بھائی چارہ اور محبت اور پیار دیکھنے کے لئے۔آپ اس بات پر بے چین ہو جاتے ہیں کہ کیوں میرے ماننے والے ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس نہیں کرتے۔پس جلسے پر آنے والوں کو جہاں جلسے کا مقصد پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرنی ہے وہاں آپس کی محبت اور پیار اور بھائی چارے کے جذبات کو بھی بڑھانا ہے۔اپنے دینی علم میں بھی اضافہ کرنا ہے۔آپ نے ایک جگہ اس کیفیت کا جو جلسے کا مقصد ہے اور جو جلسے میں شامل ہونے والوں میں پیدا ہوگی یا ہونی چاہئے اس طرح نقشہ کھینچا ہے اور بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : حتی الوسع تمام دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دعا میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آجانا چاہئے۔اور اس جلسہ میں ایسے حقایق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں۔اور نیز اُن دوستوں کے لئے خاص دعا ئیں اور خاص توجہ ہوگی۔اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر یک نئے سال جس قدر نے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تو دو تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا۔اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کے لئے ( اور ) ان کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت عزت جلشانہ کوشش کی جائے گی۔اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گئے۔آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 352-351) پس ہم میں سے ہر ایک کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم نے یہاں ان دنوں میں جلسے کے مقاصد کو پورا کرنا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے کہ دنیاوی میلوں کی طرح میلہ نہیں سمجھنا۔(ماخوذ از شهادة القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395) اور جیسا کہ اس اقتباس سے ظاہر ہے ہماری توجہ ان دنوں میں ربانی باتوں کے سننے کی طرف رہنی چاہئے۔آپس کی مجلسوں اور خوش گپیوں میں وقت نہیں گزارنا چاہئے۔نہ ہی اپنے وقت کا زیادہ حصہ