خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 496

خطبات مسرور جلد 13 496 خطبه جمعه فرموده مورخه 21 اگست 2015ء پھر ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں حقوق العباد کے بھی عظیم الشان نمونے نظر آتے ہیں۔اس کے لئے بھی ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اسے اپنے اوپر لاگو کریں۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ آپس میں محبت پیار اور رحم کے جذبات رکھتے ہوئے زندگی گزارنے والے ہوں اور اس میں بھی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اُسوہ نظر آتا ہے اور جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے بھی کھینچا ہے کہ عزیز عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ (التوبة:128 ) کہ تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق گزرتا ہے۔پس آپ کو مومنین کے لئے جو محبت تھی اس کی وجہ سے آپ کو برداشت نہیں تھا کہ ان کو ذراسی بھی تکلیف پہنچے۔مومنوں کو پہنچنے والی ذراسی تکلیف بھی آپ کو بے چین کر دیتی تھی۔پس یہ اُسوہ ہے جو ہمارے سامنے رکھا گیا کہ ایک دوسرے کی تکلیف تمہیں بے چین کرنے والی ہونی چاہئے اور یہ اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب حقیقی رنگ میں ایک دوسرے کے لئے رحم اور محبت کے جذبات ہوں۔تعلقات اخوت، جلسہ کا ایک مقصد جلسے کے منعقد کرنے کے مقاصد میں سے ایک مقصد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ” جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 281 اشتہار نمبر 91) اور تعلقات اخوت تبھی مضبوط ہوتے ہیں جب بے نفس ہو کر ایک دوسرے کی خاطر انسان قربانی کرتا ہے۔ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتا ہے۔شروع کے جلسوں میں ، ابتدائی جلسوں میں جب ابھی تربیت کے وہ معیار حاصل نہیں ہوئے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے چاہتے ہیں اور قربانی کا وہ جذ بہ نہیں تھا بیشک عقیدے کے لحاظ سے مضبوطی پیدا ہو گئی تھی لیکن ماحول کے زیر اثر حقوق العباد اور محبت اور بھائی چارے کے وہ معیار عملی طور پر پیدا نہیں ہوئے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔تو آپ نے جب یہ شکایات سنیں کہ ایک دوسرے کا جلسے میں خیال نہیں رکھا گیا۔ہر شخص نے یا بعض لوگوں نے اپنے آرام کو دوسرے کے آرام پر ترجیح دی ہے۔آپ اس بات پر بڑے سخت ناراض ہوئے اور اس ناراضگی کی وجہ سے پھر ایک سال جلسہ بھی منعقد نہیں ہوا۔آپ نے بڑی سختی سے فرمایا کہ ” میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرا دے۔“ (شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395)