خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 488
خطبات مسرور جلد 13 488 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء لئے دعا بھی کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو سلامت رکھے اور ظالموں اور مفاد پرستوں سے اس ملک کو نجات دے۔ملک کی بقاء اور سالمیت کو خطرہ باہر سے زیادہ اندر کے دشمنوں سے ہے۔خود غرض اور مفاد پرست لیڈروں اور علماء سے ہے۔اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے ملک کو چلائیں تو کوئی بیرونی طاقت ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔بہر حال پاکستانی احمدیوں کو اپنے ملک کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستانی احمدیوں کو بھی حقیقی آزادی نصیب فرمائے اور یہ ملک قائم رہے۔نماز کے بعد میں کچھ جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جن میں سے ایک جنازہ مکرم کمال آفتاب صاحب ابن مکرم رفیق آفتاب صاحب ہڈرزفیلڈ یو کے کا ہے جو 7 راگست 2015ء کو لیڈز ہسپتال میں لیکومیا کے مرض کی وجہ سے 33 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔ان کو مختلف رنگ میں جماعتی خدمت کی توفیق ملی۔وفات کے وقت بھی ریجنل قائد خدام الاحمدیہ یارک شائر اور سیکرٹری تربیت جماعت ہڈرزفیلڈ ساؤتھ کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔بیماری کے آخری ایام میں ہسپتال میں اپنے کمرے سے ہی لیکومیا ریسرچ کے لئے پچاس ہزار پاؤنڈ ا کٹھے کرنے کی مہم چلا رہے تھے۔زندگی کے آخری سانس تک بے نفس ہو کر مختلف پراجیکٹس میں انسانیت کی خدمت اور تبلیغ میں مصروف رہے۔خلافت سے نہایت اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔بیماری اور کمزوری کے باوجود خدام الاحمدیہ کا جب اجتماع ہوا ہے تو اس موقع پر ہسپتال میں ہی اہتمام کر کے انہوں نے ٹی وی لگوایا اور وہاں سے میرا جو Live ایڈ ریس تھا اس کو سنا۔ملکی اخبار جو گارڈین (Guardian) ہے اس نے انہیں 2014 ء کے Volunteer of the Year کا اعزاز دیا۔وفات سے چند دن پہلے مجھے ملنے بھی آئے تھے اور باوجود بیماری کی شدت کے بڑے حوصلے سے اور خوش مزاجی سے وقت گزار رہے تھے۔یہ کوئی نہیں تھا کہ تکلیف میں ہیں حالانکہ اس وقت بھی ان کی تکلیف کافی تھی۔ان کا ہمیشہ خلافت سے بڑا وفا کا اظہار اور تعلق تھا۔ان کے بھائی فاروق صاحب لکھتے ہیں کہ آپ حضرت سیٹھ اللہ دتہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے تھے۔1953 ء اور 74 ء کے حالات میں کمال آفتاب صاحب کے دادا مکرم جمال الدین صاحب کے گھر پر حملہ کی ناکام کوشش کی گئی۔ان کے دادا جمال الدین صاحب چھ ماہ تک اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔