خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 487
خطبات مسرور جلد 13 487 خطبه جمعه فرموده مورخه 14 اگست 2015ء کرنے کا انتظام ہے یہ بھی مہمان نوازی ہے کہ راستوں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔پھر بوڑھوں معذوروں کے لئے بگھیوں کا انتظام ہے۔پھر جو ڈ ور دس پندرہ میں منٹ کی ڈرائیو پر پارکنگ کی جگہیں لی گئی ہیں وہاں سے جلسہ گاہ تک لانے کے لئے شٹل سروس کا انتظام ہے۔یہ بھی مہمان نوازی ہے۔اس کا بھی صحیح انتظام ہونا چاہئے۔غرضیکہ بہت سے انتظامات ہیں جو مہمان نوازی کے تحت ہی ہیں اور اگر مہمان نوازی کے انتظامات ٹھیک ہوں تو باقی انتظامات تو معمولی ہیں خود بخو دٹھیک ہو جاتے ہیں۔مہمانوں کو طبی امداد مہیا کرنا یہ بھی مہمان نوازی ہے۔پس اسی فیصد میں سمجھتا ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ تر جلسے کے کام تو براہ راست مہمان نوازی میں آ جاتے ہیں۔پس ہر کارکن کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف شعبہ مہمان نوازی کا کام انہی کا نہیں جن کے مہمان نوازی کے بیج لگے ہوئے ہیں بلکہ تقریباً ہر شعبہ ہی مہمان نوازی کا شعبہ ہے اور مہمان کے لئے سہولت مہیا کرنا اور اس کی عزت اور احترام کرنا اور اسے ہر تکلیف سے بچانا ہر کارکن کا فرض ہے۔اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو احسن رنگ میں یہ ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جلسہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر لحاظ سے بابرکت ہو۔آج 14 اگست بھی ہے جو پاکستان کا یوم آزادی ہے۔اس لحاظ سے بھی دعا کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو حقیقی آزادی نصیب کرے اور خود غرض لیڈروں اور مفاد پرست مذہبی رہنماؤں کے عملوں سے ملک کو محفوظ رکھے۔اللہ تعالیٰ عوام الناس کو عقل اور سمجھ بھی عطا کرے کہ وہ ایسے رہنما منتخب کریں جو ایماندار ہوں۔اپنی امانت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ان سب کو اس بات کی حقیقت سمجھنے کی بھی تو فیق عطا فرمائے کہ اس ملک کی بقا اور سالمیت کی ضمانت انصاف اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں ہے۔ظلموں سے بچنے میں اس ملک کی بقا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے میں ہی اس ملک کی بقا ہے۔کہنے کو تو یہ خدا تعالیٰ کا نام لیتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ ہم خدا کی خاطر کر رہے ہیں لیکن رب العالمین اور رحمان اور رحیم خدا کے نام پر ہر طرف ظلم کے بازار گرم ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمت للعالمین ہیں ان کے نام پر ظلم کئے جارہے ہیں۔احمدی جنہوں نے ملک کے بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، قربانیاں دی ہیں ان پر ظلم کئے جار ہے ہیں لیکن بہر حال پاکستانی احمدیوں نے جہاں بھی وہ ہوں ملک سے وفا کا اظہار ہی کرنا ہے اور اسی