خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد 13 473 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اگست 2015ء پہچان سکتا ہے کہ کون خوبصورت ہے اور کون بدصورت۔مگر مولوی عبدالکریم صاحب فرماتے تھے کہ یہ کون سی مشکل بات ہے۔ہر آنکھ انسانی خوبصورتی کو پہچان سکتی ہے۔ظاہری طور پر جب دیکھ لو تو پہچان سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اول کا نقطۂ نگاہ یہ تھا کہ بیشک ہر نگاہ حسن کو اپنے طور پر پہچان لیتی ہے مگر اس شناخت میں بہت سی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور طبیب ہی سمجھ سکتا ہے کہ کون واقعہ میں خوبصورت ہے اور کون محض اوپر سے خوبصورت نظر آ رہا ہے۔اسی گفتگو میں حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ کیا آپ کے نزدیک یہاں کوئی مرد خوبصورت بھی ہے۔انہوں نے ( مولوی عبدالکریم صاحب نے ) ایک نوجوان کا نام لیا جو اتفاقاً اس وقت سامنے آ گیا جب وہ بحث ہو رہی تھی۔کہنے لگے میرے خیال میں یہ خوبصورت ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ آپ کی نگاہ میں تو یہ خوبصورت ہے مگر دراصل اس کی ہڈیوں میں نقص ہے۔شکل دیکھ کے پہچان لیا۔پھر آپ نے (حضرت خلیفہ اول نے ) اسے قریب بلایا اور فرمایا میاں ذرا قمیص تو اٹھانا۔اس نے قمیص جو اٹھائی تو ٹیڑھی ہڈیوں کی ایک ایسی بھیانک شکل نظر آئی کہ مولوی عبد الکریم صاحب کہنے لگے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ اس کے جسم کی بناوٹ میں یہ نقص ہے۔میں تو اس کا چہرہ دیکھ کر اسے خوبصورت سمجھتا تھا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 15 صفحہ 154-155) پس ظاہری حسن بعض دفعہ نظر آتا ہے جو اندر سے حسن نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ نے اگر بعض برائیوں کو ڈھانپنے کے لئے لباس کا حکم دیا ہے تو وہ اس لئے کہ کچھ نہ کچھ انسان کی زینت بنی رہے۔اور انسان اسی سے دُور ہٹتا چلا جا رہا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جن کا سحری کے اوقات کے بارے میں اپنا ایک نظریہ تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی کس طرح رہنمائی فرمائی وہ بھی عجیب ہے۔فرماتے ہیں کہ ”ہماری جماعت میں ایک شخص ہو ا کرتے تھے جسے لوگ فلاسفر کہتے تھے۔اب وہ فوت ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے۔(فرماتے ہیں کہ ) اسے بات بات میں لطیفے سو جھتے تھے جن میں سے بعض بڑے اچھے ہوا کرتے تھے۔فلاسفر ا سے اسی لئے کہتے تھے کہ وہ ہر بات میں ایک نیا نکتہ نکال لیتا تھا۔ایک دفعہ روزوں کا ذکر چل پڑا۔کہنے لگا کہ انہوں نے ( یعنی مولویوں نے یا فقہ کے ماہرین نے ) یہ محض ایک ڈھونگ رچایا ہوا ہے کہ سحری ذرا دیر سے کھاؤ تو روزہ نہیں ہوتا۔بھلا جس نے بارہ گھنٹے فاقہ کیا اس نے پانچ منٹ بعد سحری کھالی تو کیا حرج ہوا۔مولوی جھٹ سے فتویٰ