خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 468

خطبات مسرور جلد 13 468 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 اگست 2015ء نصیحت ہے۔اگر پہلے جوا کی عادت تھی تو احمدی ہونے پر یہ کام چھوڑ دیا) اور معمولی دکان کر لی تھی۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق تھا اور اس وجہ سے غربت کو بڑے اخلاص سے برداشت کرتے تھے۔ان کے اخلاص کی ایک مثال حضرت مصلح موعود کہتے ہیں میں سناتا ہوں کہ انہوں نے لاہور میں جا کر کوئی دکان کی۔جو گا ہک آتے انہیں تبلیغ کرتے ہوئے لڑ پڑتے۔اگر گا ہک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کوئی ایسی بات کر دیتا تو لڑ پڑتے۔ایک دن خواجہ کمال الدین صاحب نے آ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شکایت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محبت سے انہیں کہا کہ پروفیسر صاحب ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ نرمی اختیار کرو۔خدا تعالیٰ کی یہی تعلیم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھاتے جاتے تھے اور پروفیسر صاحب کا چہرہ سرخ ہوتا جا تا تھا۔ادب کی وجہ سے وہ بیچ میں تو نہ بولے مگر سب کچھ سن کر یہ کہنے لگے کہ میں اس نصیحت کو نہیں مان سکتا۔پھر کہنے لگے کہ آپ کے پیر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کوئی ایک لفظ بھی کہے تو آپ مباہلے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور کتابیں لکھ دیتے ہیں مگر ہمیں یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پیر کو اگر گالیاں دیں تو چپ رہیں۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بظاہر یہ بے ادبی تھی مگر اس سے ان کے عشق کا پتا ضرور لگ سکتا ہے۔( بہر حال مقدمے کا ذکر ہو رہا تھا جس دن مجسٹریٹ نے فیصلہ سنانا تھا) جب فیصلہ سنانے کا وقت آیا تو لوگوں کو یقین تھا کہ مجسٹریٹ ضرور سزا دے دے گا اور بعید نہیں کہ قید کی ہی سزا دے۔ادھر جو احمدی مخلصین تھے ان کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خیال نہیں آ سکتا تھا کہ آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔اس دن عدالت کی طرف سے بھی زیادہ احتیاط کی گئی تھی۔پہرہ بھی زیادہ تھا ( یعنی پولیس بہت زیادہ تھی۔) جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( عدالت کے ) اندر تشریف لے گئے تو دوستوں نے پروفیسر صاحب کو باہر روک لیا کیونکہ ان کی طبیعت تیز تھی۔پروفیسر صاحب نے ایک بڑا سا پتھر ایک درخت کے نیچے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ جس طرح ایک دیوانہ چیخ مارتا ہے زار زار روتے ہوئے دفعتہ وہ درخت کی طرف بھاگے اور وہاں سے پتھر اٹھا کر بے تحاشا عدالت کی طرف دوڑے اور اگر جماعت کے لوگ راستہ میں نہ روکتے تو وہ مجسٹریٹ کا سر پھوڑ دیتے۔انہوں نے خیال کر لیا کہ مجسٹریٹ ضرور سزا دے دے گا اور اسی خیال کے اثر کے ماتحت وہ اسے مارنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 15 صفحہ 66_67)