خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 460

خطبات مسرور جلد 13 460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم کی طرح ہر قسم کی قربانیاں کرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی دیکھ لو۔ان کو خدا نے چونکہ خود جماعت میں ایک ممتاز مقام بخش دیا ہے اس لئے میں نے ان کا نام نہیں لیا ورنہ ان کی قربانیوں کے واقعات بھی حیرت انگیز ہیں۔آپ جب قادیان میں آئے تو اس وقت بھیرہ میں آپ کی پریکٹس جاری تھی ، مطب کھلا تھا اور کام بڑے وسیع پیمانے پر جاری تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب آپ نے واپس جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کیا جاتا ہے، آپ اسی جگہ رہیں۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اسباب لینے کے لئے بھی نہیں گئے۔(اپنا سامان لینے نہیں گئے) بلکہ کسی دوسرے آدمی کو بھیج کر بھیرہ سے اپنا اسباب منگوایا۔یہی وہ قربانیاں ہیں جو جماعتوں کو خدا تعالیٰ کے حضور ممتاز کیا کرتی ہیں اور یہی وہ مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی ہر شخص کو جدو جہد کرنی چاہئے۔خالی فلسفیانہ ایمان انسان کے کسی کام نہیں آ سکتا۔انسان کے کام آنے والا وہی ایمان ہے جس میں عشق اور محبت کی چاشنی ہو۔فلسفی اپنی محبت کے کتنے ہی دعوے کرے ایک دلیل بازی سے زیادہ ان کی وقعت نہیں ہوتی کیونکہ اس نے صداقت کو دل کی آنکھ سے نہیں بلکہ محض عقل کی آنکھ سے دیکھا ہوتا ہے۔مگر وہ جو عقل کی آنکھ سے نہیں بلکہ دل کی نگاہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی صداقت اور شعائر اللہ کو پہچان لیتا ہے اسے کوئی شخص دھو کہ نہیں دے سکتا۔اس لئے کہ دماغ کی طرف سے فلسفہ کا ہاتھ اٹھتا ہے اور دل کی طرف سے عشق کا ہاتھ اٹھتا ہے۔(ماخوذ از الفضل 28 اگست 1941 صفحہ 7-6 جلد 29 نمبر 196 ) اللہ تعالیٰ ہمیں دل کی آنکھ سے زمانے کے امام کو پہچاننے اور اس پر ہمیشہ قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیشہ ہم شعائر اللہ کو پہچاننے والے ہوں اور کبھی شیطان ہمیں دھوکہ نہ دے سکے۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو ایک ہمارے درویش بھائی کا ہے۔مکرم مولوی خورشید احمد صاحب پر بھا کر ابن مکرم چوہدری نواب الدین صاحب۔28 جولائی 2015ءکو 94 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوگئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ لائلپور کے ( یہ آجکل فیصل آباد کہلاتا ہے ) اس کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔پیدائشی احمدی تھے۔1936ء میں پندرہ سال کی عمر میں پہلی بار قادیان کی زیارت کے لئے آئے اور مسجد مبارک کی چھت پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ