خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 451

خطبات مسرور جلد 13 451 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء پر مسلمان علماء اور لیڈروں کا یہی کام ہے۔یہ نعرے تو بہت لگاتے ہیں اور عمل کچھ نہیں ہے اور جس بات کی دوسروں کو تلقین کرتے ہیں اس کا اسلام کی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔یہ بھی چھوڑ دو، یہ بھی چھوڑ دو، وہ بھی چھوڑ دو۔اپنے لئے تو ہر ایک چیز وہ چھڑواتے چلے جاتے ہیں۔اس تعلق میں آپ ایک اور مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ چھوٹی عمر میں میری طبیعت بہت چلبلی سی تھی۔آپ میر درد کے نواسے تھے اور دہلی کے رہنے والے تھے۔وہاں آم بھی ہوتے ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب والدہ والد صاحب اور بہن بھائی صبح کے وقت آموں کے موسم میں آم چوسنے لگتے تو میں جو میٹھا آم ہوتا تھا اس کو کھٹا کھتا کہ کر الگ رکھ لیتا تھا اور باقی آم ان کے ساتھ مل کر کھالیتا تھا۔آم چوسنے کے لئے پہلے ایک دفعہ تو چکھنا پڑتا ہے ناں تو چکھتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ کھتا ہے حالانکہ وہ میٹھا ہوتا تھا۔جب آم ختم ہو جاتے تو پھر میں کہتا کہ میرا تو پیٹ نہیں بھرا۔اچھا میں یہ کھٹے آم ہی کھا لیتا ہوں اور سارے آم کھا لیتا تھا۔ایک دن میرے بڑے بھائی جو بعد میں میر درد کے گدی نشین ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا بھی پیٹ نہیں بھرا۔میں بھی آج کھٹے آم چوس لیتا ہوں۔فرماتے تھے کہ میں نے انہیں بہتیرا زور لگایا مگر وہ باز نہ آئے۔آخر انہوں نے آم چو سے اور کہا آم تو بڑے میٹھے ہیں تم یونہی کہتے تھے کھتے ہیں۔جس طرح وہ آم چوستے وقت میٹھے آم الگ کر لیا کرتے تھے اور باقی دوسروں کے ساتھ مل کر چوس لیتے تھے اور بعد میں کھتے کہہ کر وہ بھی چوس لیتے تھے ، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہی حال آجکل کے مسلمانوں کا ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ کو نافذ کیا جائے ان کا اگر یہ حال ہو تو ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اسلام کو جانتے ہی نہیں۔اسلام کی شریعت نافذ کرنے والے بھی اسی طرح کرتے ہیں کہ دھوکہ دہی سے اپنے لئے علیحدہ چیزیں رکھتے چلے جاتے ہیں۔یہ تو ان کا بچپنا تھا۔لیکن یہاں جان بوجھ کر غلط باتیں کی جاتی ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دوسرے لوگ جو اسلام کو نہیں جانتے وہ تو پھر ہڈیاں اور بوٹی (ماخوذ از الفضل 11 اکتوبر 1961 ، صفحہ 3 جلد 15/50 نمبر 235) کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے۔اسلام کا ایک بہت بڑا المیہ رض ہر چیز کو اسی طرح کھا جائیں گے چاہے وہ غلط بھی ہو۔پس آجکل بھی علماء اپنے لئے جو جواز پیدا کر کے اس طرح کی لوٹ مار کر رہے ہیں اور جو ہر طرف ہمیں نظر آتی ہے تو اس زمانے میں یہی اسلام کے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔اور ان علماء کی وجہ سے باقیوں نے بھی اسلام کے نام پر لوٹ مار مچائی ہوئی