خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 450
خطبات مسرور جلد 13 450 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء کا الگ الگ لہجہ ہے۔ہر ایک قرآن کریم کی محبت کی وجہ سے اسے بہترین رنگ میں پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور کرنی بھی چاہئے اور یقیناً ترتیل کا خیال رکھنا چاہئے۔اور جو اس بارے میں نئے مسلمان ہونے والوں کی مدد کر سکتے ہیں اور جنہیں صحیح طرح تلفظ کے ساتھ پڑھنا آتا ہو۔انہیں مدد بھی کرنی چاہئے لیکن مذاق اڑانے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔پس جن کو صحیح تلفظ اگر آتا بھی ہے تو ان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ مختلف قو میں ہیں مختلف لوگ ہیں ، ہر ایک کا اپنا اپنا لہجہ ہے اور عربی کے ہر لفظ کی ادائیگی ہر ایک سے نہیں ہو سکتی۔اب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے بعض اور واقعات بھی بیان کرتا ہوں۔آپ مسلمانوں کی حالت کے بارے میں کہ کیا حالت ہو رہی ہے۔ایک جگہ ایک مثال سے بیان فرماتے ہیں کہ مثل مشہور ہے کہ کوئی بزدل آدمی تھا اسے وہم ہو گیا کہ وہ بہت بہادر ہے۔وہ گودنے والوں کے پاس گیا۔(Tattoo جو کرتے ہیں۔پرانے زمانے میں یہ رواج تھا کہ بہادر اور پہلوان لوگ اپنے بازو پر اپنے کیریکٹر اور اخلاق کے مطابق نشان کھدوا لیتے تھے۔( یہاں یورپ میں بھی اس کا بڑا رواج ہے۔) یہ بھی (بہر حال) گودنے والے کے پاس گیا۔گودنے والے نے پوچھا تم کیا گدوانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا میں شیر گدوانا چاہتا ہوں۔جب وہ شیر گود نے لگا،جسم پر اس کی شکل بنانے لگا تو اس نے سوئی چھوٹی۔سوئی چبھونے سے درد تو ہونا ہی تھا۔وہ دلیر تو تھا نہیں۔(خیال تھا کہ میں بہت بہادر ہوں۔) اس نے کہا یہ کیا کرنے لگے ہو؟ گودنے والے نے کہا کہ شیر گودنے لگا ہوں۔اس نے پوچھا شیر کا کونسا حصہ گودنے لگے ہو؟ اس نے کہا دُم گود نے لگا ہوں۔اس آدمی نے کہا کہ اگر شیر کی دُم کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا ؟ گودنے والے نے کہا شیر تو رہتا ہے۔کہنے لگا اچھا پھر دُم چھوڑ دو، دوسرا کام کرو۔اس نے پھر سوئی ماری تو بولنے لگا اب کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے کہا کہ اب دایاں بازو گود نے لگا ہوں۔اس آدمی نے کہا کہ شیر کا لڑائی یا مقابلہ کرتے وقت دایاں بازو کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا۔اس نے کہا شیر تو رہتا ہے۔کہنے لگا پھر اسے بھی چھوڑ دو اور آگے چلو۔اس طرح وہ بایاں بازو گود نے لگا تو اس نے اسے بھی رہنے دیا کہ کیا اس کے بغیر شیر نہیں رہتا۔پھر ٹا نگ گودنی چاہی تو پھر اس نے یہی کہا۔آخر وہ گودنے والا جو تھا وہ بیٹھ گیا۔اس آدمی نے جو گودوانے گیا تھا اور سمجھتا تھا میں بڑا بہادر ہوں کہا کہ کام کیوں نہیں کرتے۔گودنے والے نے کہا اب کچھ رہ نہیں گیا۔میں کروں کیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہی آجکل اسلام کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔خاص طور