خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 449
خطبات مسرور جلد 13 449 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء پڑھانے کا بہت شوق تھا۔انہوں نے لڑکوں (اپنے بچوں) کو پڑھانے کے لئے استاد ر کھے ہوئے تھے اور لڑکی کو بھی قرآن پڑھانے کے لئے اسی کے سپر د کیا ہوا تھا۔اُم طاہر بتاتی ہیں کہ وہ استاد بہت مارا کرتے تھے اور ہماری انگلیوں میں شاخیں ڈال کر ، ( درخت کی چھوٹی ٹہنیاں پنسل کی طرح لے کر ، بعض لوگ پنسلیں بھی ڈالتے تھے ، استاد شاخیں انگلیوں میں ڈال کر ) انہیں دباتے تھے۔مارتے تھے۔پیٹتے تھے اس لئے کہ ہم صحیح طور پر تلفظ کیوں ادا نہیں کرتے۔ہم پنجابی لوگوں کا لہجہ بھی ایسا ہی ہے کہ ہم عربوں کی طرح عربی کے الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔(ماخوذ از الفضل 11 اکتوبر 1961 ، صفحہ 3-2 جلد 50/15 نمبر (235) حضرت مصلح موعودؓ نے پھر اس عرب کا بھی واقعہ بیان کیا جس کو میں گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے آیا تو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو تین دفعہ ض کا استعمال کیا تو کہنے لگا آپ کس طرح مسیح موعود ہو سکتے ہیں آپ کو تو ضاد بھی کہنا نہیں آتا۔اس عرب نے یہ بڑی لغو حرکت کی تھی۔ہر ملک کا اپنا لہجہ ہوتا ہے۔عرب خود کہتے ہیں کہ ہم ناطقین بالضاد ہیں۔ہندوستانی اسے ادا نہیں کر سکتے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہندوستانی لوگ اسے یا تو دواڈ کر کے پڑھتے ہیں یا ضاڈ کر کے پڑھتے ہیں لیکن اس کے مخارج اور ہیں۔پس جب عرب خود کہتے ہیں کہ ہم ناطقین بالضاد ہیں اور کوئی صحیح طور پر اسے ادا نہیں کر سکتا تو پھر اعتراض کرنے کی بات ہی کیا ہوئی؟ (ماخوذ از الفضل 11 اکتوبر 1961 ، صفحہ 3 جلد 50/15 نمبر 235) پس عرب احمد یوں کو بھی اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے۔عموماً اکثریت تو اس بات کو بجھتی ہے لیکن بعض کی طبیعتوں میں کچھ فخر کی حالت بھی ہوتی ہے۔ایک پاکستانی عورت ایک عرب سے بیاہی ہوئی ہے وہ بھی اپنی طرف سے حلق سے آواز نکال کر سمجھتی ہے کہ میں نے صحیح تلفظ ادا کر دیا حالانکہ وہ صحیح نہیں ہوتا۔اگر اس کی ذات تک ہی بات ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی اور مجھے کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن مجھے پتا چلا ہے کہ بعض مجالس میں بیٹھ کر استہزاء کے رنگ میں یہ بات کرتی ہے کہ بعض حروف کی ادائیگی پاکستانیوں کو نہیں آتی ، قرآن کریم پڑھنا نہیں آتا۔عربی کے الفاظ صحیح ادا نہیں کر سکتے اور عرب بیٹھ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ عربوں میں سے ہر ایک ایسا ہو گا جو مذاق اڑاتا ہو۔ہو سکتا ہے جن عربوں میں یہ بیاہی ہوئی ہیں وہ مذاق اڑاتے ہوں۔اسلام میں تو ہر قوم کے دل جیت کر انہیں اللہ تعالیٰ کے کلام سے نہ صرف آشنا کروانا ہے بلکہ اسے پڑھنے کے لئے ان کے دلوں میں محبت بھی پیدا کرنی ہے اور ہر ایک