خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 448
خطبات مسرور جلد 13 448 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء ادائیگی غیر عرب کر ہی نہیں سکتے۔سوائے اس کے کہ عربوں میں پلے بڑھے ہوں۔جاپانی قوم ہے وہ بھی بعض حروف کی ادائیگی نہیں کر سکتے۔مثلاً یہ جو پڑھنے والی تھیں وہ بھی رخ کو جس طرح ادا کر رہی تھیں اس میں 'ح زیادہ ابھر کر سامنے آتی تھی۔'خ' اور 'ح کا فرق نہیں تھا۔ان جاپانی خاتون سے سن کر مجھے یہ تاثر ملا ہے کہ اگر تمام جاپانی نہیں تو ان خاتون کی طرح بہت سے ایسے ہوں گے جن کے لئے بعض حروف کی ادائیگی مشکل ہوگی۔لیکن بہر حال اصل چیز تو خدا تعالیٰ کے کلام سے محبت ہے۔اسے حتی الوسع صحیح رنگ میں ادا کرنا چاہئے۔اس کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ صرف قاری بننا اور دکھاوے کے لئے مقابلوں میں حصہ لینا۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اَشْهَدُ کے بجائے اَشهَدُ کہنے پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو پیار کی نظر تھی اس کا کوئی قاری یا عرب مقابلہ نہیں کرسکتا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 15 صفحہ 470) پس جماعت میں غیر مسلموں سے بھی لوگ شامل ہورہے ہیں، اسلام لا رہے ہیں۔مسلمانوں کی اکثریت جیسا کہ میں نے کہا قرآن کریم پڑھنا نہیں جانتی۔افریقہ میں ہمارے مبلغین کو بہت سے ایسے مواقع پیش آتے ہیں جہاں نئے سرے سے قرآن کریم پڑھانا پڑتا ہے۔نئے سرے سے قرآن کریم کیا بلکہ ابتدا سے قاعدہ پڑھانا پڑتا ہے۔تو ان لوگوں کو بھی قرآن کریم پڑھانا ہے۔اس لئے قرآن کریم پڑھانے والے استادوں کو اس طریق سے پڑھانا چاہئے کہ قرآن کریم پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ اس پاکستانی خاتون کو بھی اجر دے جنہوں نے ان جاپانی خاتون کو نہ صرف قرآن کریم پڑھایا بلکہ لگتا تھا کہ قرآن کریم کی محبت بھی پیدا کی ہے۔پس اصل چیز قاری کی طرح قراءت نہیں اور یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اگر اس طرح الفاظ ادا نہ کر سکیں تو قرآن کریم پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔قرآن کریم پڑھنا ضروری ہے اس میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔لیکن صرف اس بات پر کہ بعض الفاظ ہم ادا نہیں کر سکتے یا مشکل ہیں ، قرآن کریم کو پڑھناہی نہیں چھوڑ دینا چاہئے بلکہ تلاوت کی طرف روزانہ ہر احمدی کی توجہ ہونی چاہئے۔ہاں یہ کوشش ضرور ہونی چاہئے جیسا کہ میں نے کہا کہ اصل کے جتنا قریب ترین ہو کر آسانی سے الفاظ کی ادائیگی ہو سکے ، کی جائے اور پھر اس میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ یہ کوشش کہ ہم قاری کی طرح ہی ہر لفظ کو ادا کریں درست نہیں کیونکہ اس کی طاقت خدا تعالیٰ نے ہمیں نہیں بخشی جو غیر عرب ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ میری مرحومہ بیوی اُمّم طاہر بیان کرتی تھیں کہ ان کے والد صاحب کو قرآن پڑھنے