خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 445
خطبات مسرور جلد 13 445 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء جس کے ساتھ تیرا یہ وعدہ تھا کہ میں اس کے ذریعہ اسلام کو زندہ کروں گا۔تیرا وعدہ تھا کہ میں اس کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔پس اس کو تو پورا فر ما۔(ماخوذاز الفضل 14 مارچ 1944 ء صفحہ 7 جلد 32 نمبر 61) اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا حصہ بنتے ہوئے آپ علیہ السلام کے مشن کی تکمیل میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والے ہوں اور اسلام کی حقیقی شکل اور غلبے کو دنیا کو دکھانے والے بھی ہوں اور دیکھنے والے بھی ہوں۔نماز کے بعد ایک جنازہ غائب پڑھوں گا جو کہ مولوی محمد یوسف صاحب درویش مرحوم ( قادیان) کا ہے۔22 جولائی 2015ء کو 94 سال کی عمر میں یہ وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔آپ کو لمبا عرصہ مدرسہ احمدیہ میں قرآن کریم اور حدیث پڑھانے کا موقع ملا۔بہت سادہ منکسر المزاج اور احساس ذمہ داری کے ساتھ خدمت بجالانے والے مخلص اور باوفا انسان تھے۔آپ کا تعلق قصبہ موکل تحصیل چونیاں ضلع لا ہور اور حال ضلع قصور سے تھا۔آپ نے بچپن کی تعلیم اپنے گاؤں میں ہی حاصل کی۔اس کے بعد 1939ء میں لاہور کی ایک اہلحدیث درسگاہ سے حدیث کی ابتدائی کتب پڑھنے کا موقع ملا۔وہاں ان کی ملاقات ایک احمدی سے ہوئی جن سے احمدیت کا علم ہوا۔بعد میں تحقیق حق کے لئے متعدد مرتبہ قادیان آتے رہے۔کتب کا مطالعہ کرتے رہے۔آخر 1944ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔پھر دینی تعلیم کے حصول کے لئے قادیان آگئے اور اپریل 1947 ء میں آپ کا داخلہ مبلغین کلاس میں ہوا۔پڑھائی کے دوران ہی تقسیم ملک اور قادیان سے ہجرت کا سانحہ پیش آیا مگر انہوں نے ہر حال میں قادیان میں رہنے کو ترجیح دی اور درویشانہ زندگی اختیار کر لی۔1949ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد پر کہ قادیان میں علماء کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مبلغین کلاس میں سے بعض کو منتخب کر کے مزید تعلیم دلوائی جائے ، آپ کو بھی مزید تعلیم کے لئے منتخب کیا گیا جس کا عرصہ چار سال تھا۔اس تعلیم کے مکمل ہونے پر آپ کو مئی 1955ء میں قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں بطور استاد مقرر کیا گیا۔نومبر 1958ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ایک لمبا