خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 436

خطبات مسرور جلد 13 436 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے مخالفت چل رہی ہے لیکن جماعت ترقی کر رہی ہے بلکہ آج تک بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف سازشوں اور مخالفتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن اللہ کے فضل سے جماعت ترقی کر رہی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ جماعت کانٹوں پر گزرتی ہوئی اپنی حیثیت کو پہنچی ہے اور یہ بات بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ جماعت کے شامل حال رہا ہے۔لیکن اس فضل کو دائی کرنے کے لئے جماعت کو ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہنا چاہئے۔(ماخوذ از الفضل 30 مئی 1959 ، صفحہ 4 نمبر 127 جلد 48/13) اگر ہم دعاؤں کا حق ادا کرتے رہے تو انشاء اللہ تعالیٰ موجودہ بھی اور آئندہ بھی ہونے والی سب مخالفتیں خودا پنی موت مر جائیں گی۔ایک موقع پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیمثال قربانی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک اعلیٰ درجے کی ملا زمت عطا فرمائی تھی۔وہ چھوٹی (ختم ہوئی) تو آپ نے اپنے وطن میں پریکٹس شروع کی۔وہاں آپ کی بہت شہرت تھی۔آپ کا وطن بھیرہ سرگودھا کے ضلع میں ہے جہاں بڑے بڑے زمیندار ہیں اور ان میں سے اکثر آپ کے بڑے معتقد تھے۔پس وہاں کام چلنے کا خوب امکان تھا۔لیکن آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے قادیان آئے۔چند روز بعد جب واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ دنیا کا آپ بہت کچھ دیکھ چکے اب یہیں آ بیٹھئے۔آپ نے اس ارشاد پر ایسا عمل کیا کہ خود سامان لینے بھی واپس نہ گئے بلکہ دوسرے آدمی کو بھیج کر سامان منگوایا۔اس زمانے میں یہاں پریکٹس چلنے کی کوئی امید ہی نہ تھی بلکہ یہاں تو ایک پیسہ دینے کی حیثیت والا بھی کوئی نہ تھا مگر آپ نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔پھر بھی آپ کی شہرت ایسی تھی کہ باہر سے مریض آپ کے پاس پہنچ جاتے تھے اور اس طرح کوئی نہ کوئی صورت آمد کی پیدا ہو جاتی تھی۔مگر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی قربانی ایسے رنگ کی تھی کہ کوئی آمد کا احتمال بھی نہ تھا۔نہ کہیں سے کسی فیس کی امید تھی، نہ کوئی تنخواہ تھی اور نہ وظیفہ کسی طرف سے کسی آمد کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔مگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے تھے۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) اس وقت جتنے کام تمام محکمے (جماعتی ادارے) کر رہے ہیں یہ سب وہ اکیلے ( کیا) کرتے تھے حالانکہ گزارے کی کوئی صورت نہ تھی اور یہ بھی وادی غیر ذی زرع میں