خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 435
خطبات مسرور جلد 13 435 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015 ء کا ایک اور بیٹا بھی ہے وہ کہاں ہے۔انہوں نے کہا وہ تو سارا دن مسجد میں پڑا رہتا ہے اور قرآن پڑھتا رہتا ہے۔مجھے اس کا بڑا فکر ہے وہ کھائے گا کہاں سے تم اس کے پاس جاؤ اور اس کو کہو کہ دنیا کا بھی کچھ فکر کرو۔میں چاہتا ہوں کہ وہ کوئی نوکری کر لے۔لیکن جب میں اس کے لئے کسی نوکری کا انتظام کرتا ہوں وہ انکار کر دیتا ہے۔چنانچہ میرے والد گئے (اس سکھ کے والد گئے ) اور بڑے مرزا صاحب کی بات ان کو پہنچائی۔وہ کہنے لگے ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہنے لگے ) کہ میرے والد صاحب کو تو یونہی فکر لگی ہوئی ہے۔میں نے دنیا کی نوکریوں کا کیا کرنا ہے۔آپ ان کے پاس جائیں ( میرے والد کے پاس) اور کہیں کہ میں نے جس کا نوکر ہونا تھا ہو گیا ہوں۔مجھے آدمیوں کی نوکریوں کی ضرورت نہیں ہے۔(حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ) اس سکھ پر اس بات کا اتنا اثر تھا کہ وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتا اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) ایک دفعہ وہ چھوٹی مسجد میں میرے پاس آیا اور چیچنیں مار کر رونے لگ گیا۔میں نے کہا کیا بات ہوئی ہے۔وہ کہنے لگا کہ آج مجھ پر بڑا ظلم ہوا ہے۔میں آج بہشتی مقبرہ گیا تھا۔جب میں مرزا صاحب کے مزار پر سجدہ کرنے لگا تو ایک احمدی نے مجھے اس سے منع کر دیا حالانکہ اس کا مذہب اور ہے اور میرا مذہب اور ہے۔اگر احمدی قبروں کو سجدہ نہیں کرتے تو نہ کریں۔میں تو سکھ ہوں ہم سجدہ کر لیتے ہیں۔پھر اس احمدی نے مجھے منع کیوں کیا۔اس پر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ غرض آپ ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) بالکل خلوت نشین تھے اور جو لوگ آپ کے واقف تھے ان پر آپ کی عبادت اور زہد کا اتنا اثر تھا کہ غیر مسلم ہونے کے باوجود یہ لوگ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی آپ کے مزار پر آتے تھے۔(ماخوذ از الفضل 30 مئی 1959 ، صفحہ 4 نمبر 127 جلد 48/13) حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوست تھے۔آپ کے دعوے کے بعد انہوں نے کہا کہ میں نے ہی اس شخص کو بڑھایا ہے اور اب میں ہی گراؤں گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے یعنی مولوی محمد حسین کے نام کو تو مٹا دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام کو دنیا میں پھیلا دیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کا، مولوی محمد حسین صاحب کا ایک بیٹا آریہ ہو گیا اور حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میں نے اسے قادیان بلا یا اور اسے دوبارہ مسلمان کیا۔مولوی محمد حسین صاحب نے اس بات پر مجھے شکریہ کا خط بھی لکھا۔پھر حضرت مصلح موعودؓ نے خلافت ثانیہ کے دور میں اندرونی اور بیرونی مخالفتوں کا ذکر کر کے فرمایا