خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 434

خطبات مسرور جلد 13 434 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء بہتیرا تلاش کیا مگر نہ ملی۔وہ حیران سا کھڑا تھا کہ بکری نے پیر مارنا شروع کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مٹی ہٹ گئی اور اسے چھری نظر آگئی جس سے اس نے فورا اسے ذبح کر دیا۔تو اُس وقت سے عرب میں یہ شثل مشہور ہو گئی ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان مہیا کرتا ہے تو کہتے ہیں اس نے بالکل ایسا ہی کیا جس طرح بکری نے چھری نکال لی تھی۔(ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر۔انوار العلوم جلد 14 صفحہ 581) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی نتیجہ نکالا اور یہ نتیجہ بڑا ظاہر نکلتا ہے کہ حافظ صاحب اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات مان کر اپنی بیٹی زینب مصری صاحب کے نکاح میں نہ دیتے تو اس کا ایمان ضائع نہ ہوتا۔پس مامور کی باتوں پر عمل کرنا مومنوں کا فرض ہے۔اور اس کو سمجھنا چاہئے اور اپنی تو جیہیں کرنے کی بجائے لفظا عمل کیا جائے تو ایمان ضائع نہیں ہوتا۔حضرت مصلح موعودؓ " پھر ایک اور واقعہ بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مولوی محمد احسن صاحب کی طبیعت ایسی تھی کہ ان کی طبیعت میں بڑی جلد بازی تھی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بسراواں کی طرف سیر کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے (سیر کے دوران ) فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں اور بندے کے کلام میں بڑا فرق ہوتا ہے۔آپ علیہ السلام نے اپنا ایک الہام سنایا اور فرمایا دیکھ لو یہ بھی ایک الہام ہے اور اس کے مقابل پر حریری کا بھی کلام موجود ہے۔( یہ ایک لکھنے والا تھا۔) مولوی محمد احسن صاحب نے بات کا آخری حصہ غور سے نہ سنا اور الہام کے متعلق خیال کر لیا کہ یہ حریری کا کلام ہے۔اور کہنے لگے بالکل لغو ہے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ تو خدا تعالیٰ کا الہام ہے تو مولوی صاحب فورا کہنے لگے سبحان اللہ ! کیا ہی عمدہ کلام ہے۔(ماخوذ از الفضل 30 مئی 1959ء صفحہ 4 نمبر 127 جلد 48/13) پس کسی بھی بات کے متعلق رائے قائم کرنی ہو تو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔پھر اس بات کا ذکر فرماتے ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آج دنیا کے کونے کونے اور ہر ملک میں جانا جاتا ہے ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک سکھ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کے تایا مرزا غلام قادر صاحب تو بہت مشہور تھے اور ایک بڑے عہدے پر فائز تھےلیکن مرزا غلام احمد صاحب غیر معروف تھے انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ سکھ کہنے لگا کہ میرے والد ایک دفعہ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کے پاس گئے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد کے پاس۔) اور کہنے لگے سنا ہے آپ