خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 428
خطبات مسرور جلد 13 428 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جولائی 2015ء برائیوں سے بچنے کی یہ کوشش اور ان سے بچنا انسان کو تقویٰ کے پہلے مرحلے میں لاتا ہے۔فرمایا کہ بیشک برائیوں سے بچنا اچھی بات ہے لیکن یہ نیکی کا پہلا حصہ ہے۔یہ تقویٰ کا پہلا مرحلہ ہے۔نیکی اس پر ختم نہیں ہو جاتی۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتنی سی بات نہیں جس سے وہ راضی ہو جاوے۔بدیوں سے بچنا چاہئے اور اس کے مقابل نیکی کرنی چاہئے۔اس کے بغیر مخلصی نہیں۔(اگر نہیں کرو گے تو یہ نہ سمجھ لو کہ بدیوں سے بچ کر میں نے تقویٰ حاصل کر لیا۔اس لئے اگر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے تو نیکیاں بجالائے بغیر جان نہیں چھوٹے گی۔بہر حال کرنی پڑیں گی۔فرمایا کہ ) جو اس پر مغرور ہے کہ وہ بدی نہیں کرتا۔( بعض لوگوں کو بڑا فخر ہے کہ ہم بدی نہیں کرتے ) وہ نادان ہے۔اسلام انسان کو اس حد تک نہیں پہنچاتا اور چھوڑتا بلکہ وہ دونوں شقیں پوری کرانا چاہتا ہے۔یعنی بدیوں کو تمام کمال چھوڑ دو۔( اپنی بدیوں اور برائیوں کو مکمل طور پر چھوڑ دو۔) اور نیکیوں کو پورے اخلاص سے کرو۔( بدیوں کو مکمل طور پر چھوڑو اور نیکیوں کو پورے اخلاص سے کرو۔فرمایا کہ ) جب تک یہ دونوں باتیں نہ ہوں نجات نہیں ہوسکتی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 377_378) پس یہ رمضان بھی اور جمعہ بھی اور ہماری عبادتیں بھی ہمیں اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئیں کہ ہم نے جہاں تقویٰ کے پہلے مرحلے میں بدیوں کو مکمل طور پر چھوڑنا ہے یا چھوڑا ہے وہاں تقویٰ کے اگلے مرحلے پر چلتے ہوئے تمام نیکیوں کو پورے اخلاص سے ادا کرنا ہے۔آپ نے ایک جگہ فرمایا یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ نمازوں کی مثلاً مجھے عادت پڑ گئی اور نماز پڑھنے کے بعد وہیں مسجد میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی برائیاں شروع کر دیں یا ایسی باتیں کرنے لگ گئے جن کا نیکیوں سے کوئی تعلق نہیں۔تو یہ تو تم نے پہلا مرحلہ بھی طے نہیں کیا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 376) پس جمعہ کے دن جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق قبولیت دعا کی ایک گھڑی ہوتی ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی بھی آتی ہے جب قبولیت دعا ہوتی ہے۔(صحیح البخارى كتاب الجمعة باب الساعة التي في يوم الجمعة 935)