خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 423 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 423

خطبات مسرور جلد 13 423 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جولائی 2015ء بہت سے احمدی ہیں جنہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے جمعہ کی چھٹی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی نوکری چھوڑی تو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بہتر انتظام کر دیا۔پس یہ بات اگر ہم پیش نظر رکھیں کہ ہم نے جمعہ کو اہمیت دینی ہے اور پھر دعا بھی کریں کہ اگر بعض سخت حالات ہیں اور جمعہ ضائع ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرمائے تو اللہ تعالیٰ دردِ دل سے کی گئی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے انتظام بھی فرما دیتا ہے اور آسانیاں بھی پیدا فرما دیتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا عورتوں کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔اسی طرح چھوٹے بچوں کو بھی جمعہ پر نہیں لانا چاہئے کیونکہ اس سے دوسرے نمازیوں کی نماز ڈسٹرب ہوتی ہے۔بعض مرد لے آتے ہیں انہیں بھی احتیاط کرنی چاہئے کہ نہ لائیں یا پھر اگر لے آئے ہیں تو پھر ان کو بچوں کے حصے میں بٹھا ئیں یا خود بچوں کے حصے میں بیٹھیں۔بہر حال یہ چار استثناء ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔ان کے علاوہ ہر ایک پر جمعہ کی نماز پر آنا فرض ہے اور جمعہ والے دن خاص اہتمام کرنا فرض ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو آخری کامل اور مکمل شریعت لے کر آئے تھے وہ تعلیم لے کر آئے تھے جو بندے کو خدا تعالیٰ سے ملاتی ہے۔آپ اپنے ماننے والوں کے بہت بلند روحانی معیار دیکھنا چاہتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں سے ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ انسان کو کس طرح اپنے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔کس طرح خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہئے۔کس طرح اپنی نیکیوں کو مستقل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔کس طرح اپنے مقصد پیدائش کا حق ادا کرنا چاہئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں، جمعہ اگلے جمعے تک اور رمضان اگلے رمضان تک ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جبتک کہ انسان بڑے بڑے گناہوں سے بچتا رہے۔(صحیح مسلم کتاب الطهارة باب الصلوات الخمس والجمعة الى الجمعة ورمضان الى رمضان مكفرات۔۔۔551) پس یہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمارے لئے رہنمائی جو نہ صرف گناہوں سے بچاتی ہے بلکہ ان کی بخشش اور سامان بنتی ہے بلکہ روحانیت میں بھی بڑھاتی ہے۔جو شخص حقیقی رنگ میں ایک نماز کے بعد اگلی نماز کی فکر کرے گا تو کوئی گناہگار ظالم ، دوسروں کے حقوق غصب کرنے والا تو یہ فکر نہیں کرے گا کہ میں نے اگلی نماز پر جانا ہے اور اگلی نماز کی تیاری کرنی ہے کہ نماز پڑھ کے آئے اور پھر گناہوں میں مبتلا ہو گئے یا لوگوں کے حقوق غصب کرنے لگ گئے یا دوسروں پر ظلم کرنے لگ گئے اور اگر کوئی ایسا ہے جو اس طرح کرتا ہے تو اس کی نماز نماز نہیں اور پھر وہ گناہ کبیر کا مرتکب ہو رہا ہے۔غاصب اگر کوئی ہے تو پھر اس کی