خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 422

خطبات مسرور جلد 13 422 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جولائی 2015ء آتا ہے۔بغیر جائز عذر کے جمعہ چھوڑنا منع ہے۔ان جائز عذروں کی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی۔کون کون لوگ ہیں جن کے عذر ہو سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرنا فرض ہے سوائے چار استثناء کے اور وہ چار لوگ جن کو مستثنیٰ کیا گیا ہے وہ ہیں غلام ، عورت، بچہ اور مریض۔(سنن ابی داؤ د كتاب الصلوة باب الجمعة للمملوك والمرأة 1067) پس یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے کہ مجبوروں اور جائز عذر رکھنے والوں کو چھوٹ دی۔یہ نہیں کہ ہر عورت، بچہ اور مریض اور وہ غلام جو اپنے مالک کی سختیوں کی وجہ سے مجبور ہیں اگر جمعہ پر نہیں آتے تو ان کا دل سیاہ ہو جائے گا۔یہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ان کے لئے نہیں کہا گیا کہ ان کے دلوں پر مہر لگ جائے گی۔عورتیں اگر آجائیں تو ٹھیک ہے۔نماز با جماعت، جمعہ کے علاوہ جو پانچ نمازیں ہیں وہ مسجد میں آنا اور با جماعت ادا کرنا صرف مردوں پر فرض ہے۔ضروری نہیں کہ عورتیں ضرور مسجد میں آئیں لیکن جمعہ پر اگر عورتیں آ جاتی ہیں تو یہ مستحسن ہے۔اگر نہیں آتیں تو کوئی حرج نہیں۔لیکن بعض عورتیں جو آتی ہیں ان کے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں تو وہ جب آتی ہیں تو بعض دفعہ ڈسٹرب بھی کر رہی ہوتی ہیں۔پھر بعض عورتوں کی دوسری گھر یلو مصروفیات بھی ہوتی ہیں اس لئے انہیں گھروں میں رہنے کی اجازت ہے۔بلکہ چھوٹے بچوں والی عورتوں کو جیسا کہ میں نے کہا کہ ڈسٹرب کرتی ہیں۔چاہے وہ آ بھی سکتی ہوں ان کے لئے آسانی بھی ہو تو انہیں آنا بھی نہیں چاہئے ، کیونکہ پھر اس سے بعض دفعہ بچوں کی وجہ سے باقی نمازیوں کی نماز اور خطبے میں خلل پڑتا ہے۔صرف عید کی نماز پر آنا ہر عورت پر فرض ہے۔اگر نماز نہ بھی پڑھنی ہو تو خطبہ سن لے۔اسی طرح غلام ہیں وہ اپنے مالک کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں لیکن آجکل تو کوئی غلام نہیں ہے۔پرانے زمانے میں غلاموں کا جو تصور تھا اس زمانے میں تو نہیں پایا جاتا۔ملازم پیشہ لوگ تو لوگ ہیں لیکن وہ غلاموں کے زمرہ میں نہیں آتے۔اس لئے ان کو بھی اپنے آپ کو اس چھوٹ کی وجہ سے غلاموں کے زمرہ میں شامل نہیں کرنا چاہئے سوائے اس کے کہ کوئی انتہائی مجبوری ہو اور مالک بڑا سخت ہو اور وہ رخصت نہ دے اور کوئی ذریعہ آمد نہ ہو اور پھر فاقے اور بھوک اور افلاس کی نوبت کے آنے کا خطرہ ہو تو اس صورت میں استثناء ہوسکتا ہے۔یہ اضطراری حالت ہے اور اضطراری حالت میں تو حرام کھانے کی بعض دفعہ اجازت ہو جاتی ہے۔لیکن یہ اضطراری حالت بھی اگر مالکان کو احساس دلایا جائے تو عموما نہیں ہوتی۔چاہے وہ عیسائی بھی ہوں تو کچھ نہ کچھ وقت کی یا ایک جمعہ چھوڑ کر ایک جمعہ کی اجازت دے دیتے ہیں بلکہ ایسے بھی