خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 421

خطبات مسرور جلد 13 421 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جولائی 2015ء اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ مسجد میں پہلے آنے والے کو پہلا لکھتے ہیں اور اسی طرح مسجد میں آنے والوں کی فہرست تیار کرتے جاتے ہیں یہاں تک کہ امام اپنا خطبہ ختم کر لیتا ہے تو وہ فرشتے اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں۔(صحيح البخارى كتاب الجمعة باب الاستماع الى الخطبة 929) پس ہر آنے والے کو مسجد میں آنے اور جمعہ والے دن ذکر الہی کرنے کا خاص ثواب ہے۔امام کے انتظار میں اور خطبہ کے دوران بھی وہ اس ثواب سے حصہ لے رہے ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو اہمیت نہ دینے والوں کو بڑی تنبیہ فرمائی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جان بوجھ کر تین جمعے چھوڑ دیئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔(سنن الترمذی ابواب الجمعة باب ماجاء فی ترک الجمعة من غير عذر 500) پس اس اہمیت کو ہم سب کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔خدا تعالیٰ نے نہ ہی قرآن کریم میں اور نہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ رمضان کا آخری جمعہ بہت اہمیت کا حامل ہے بلکہ تمام جمعوں کو ہی اہم بتایا ہے۔بلکہ ایک حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانو! جمعہ کے دن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے عید بنایا ہے۔پس اس روز خاص اہتمام سے نہا دھو کر تیار ہوا کرو۔(المعجم الصغير للطبراني باب الحاء من اسمه الحسن صفحه (129) پس یہ ہر جمعہ کی اہمیت ہے جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہر جمعہ کو ہی اہتمام کریں اور تمام مصروفیات کو ہم ترک کریں۔تمام کاموں اور کاروباروں سے وقفہ لیں اور مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے آئیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح کھول کر اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔پس یہ بات ثابت کرتی ہے کہ مومن کے ایمان کے معیار کو اونچا کرنے کے لئے ہر مومن پر جمعہ کی ادائیگی فرض ہے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کا منفی پہلو اور انذار بھی بیان فرما دیا کہ جان بوجھ کر جمعہ چھوڑنے والے کا دل نیکیوں کے بجالانے کے لئے بالکل بند ہو جاتا ہے۔پس بڑے خوف کا مقام ہے۔سستیاں کرنے والوں کو اپنے جائزے لینے چاہئیں اور بغیر عذر کے بلا وجہ کی سستیاں ترک کرنی چاہئیں۔اسلام صرف سختیاں ہی نہیں کرتا۔اسلام ایک سمویا ہوا مذ ہب ہے اس میں صرف انذار ہی نہیں اور سختیاں ہی نہیں ہیں۔یہی نہیں کہہ دیا کہ جمعہ پر نہیں آؤ گے تو ڈرا دیا بلکہ جیسا کہ میں نے کہا اگر جائز عذر ہے تو ٹھیک ہے۔اگر جائز عذر کے بغیر کوئی نہیں آتا تو وہ پکڑ میں