خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 414

خطبات مسرور جلد 13 414 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء پھر فرمایا کہ ” اور وہ وفا داری اور خدا کی طرف جھکنے میں ترقی کرتا ہے ( پھر انسان جب ان چیزوں سے بچے گا تو خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے میں ترقی کرے گا) ”جس سے ایک لذت اور سرور اسے دیا جاتا ہے اور یوں بہشتی زندگی اسی دنیا سے اس کے لئے شروع ہو جاتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 156-155) پس اس دنیا کی بہشتی زندگی یا اگلے جہان کی بہشت کے حصول کی کوشش اور جہنم سے بچنا کس طرح ہے اور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق جہنم سے بچنا اور جنت کا حصول صرف اخروی جنت اور جہنم نہیں ہے بلکہ اس دنیا کی بھی جنت اور جہنم ہے اور اس صورت میں اس سے بچنا اسی صورت میں ممکن ہے جب انسان خدا تعالیٰ سے ڈرے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حقیقی محسن وہ ہے جو ہر وقت یہ خیال رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔اور جب یہ احساس ہو کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے تب خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔اور تبھی انسان برائیوں سے بچتا ہے۔اور جو برائیوں سے بچتا ہے وہ دل کی بے چینیوں سے بھی بچتا ہے۔اب ایک چور ہے یا کسی بھی طریقے سے کوئی بھی غلط کام کرنے والا ہے، اسے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں میں پکڑا نہ جاؤں یا اور کسی قسم کی بدنامی نہ ہو اور آپ نے فرمایا کہ یہ خوف ہی اس دنیا میں اسے جہنم میں مبتلا کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا اس دنیا اور اگلے جہان میں جنت کما رہا ہوتا ہے اور برائیوں اور شہوات نفسانی میں مبتلا اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی جہنم کما رہا ہوتا ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکنا اس سے وفا رکھنا ہی جنت ہے اور اس سے دور جانا جہنم ہے۔پس یہ جہنم سے نجات کی بات بھی وہیں آکر ٹھہری کہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل اور اس کے خوف اور تقویٰ کو ہر وقت سامنے رکھنا۔پس اس چھوٹی سی حدیث میں تین باتوں کا ذکر فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف توجہ دلائی وہاں اس پر قائم رہنے کے لئے استغفار کی طرف بھی توجہ دلائی اور پھر اس پر قائم رہنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا اگر انسان اس بات کو حاصل کرلے تو اس کا ہر قول و فعل اللہ تعالیٰ کی رضا کوسامنے رکھتے ہوئے ہو جاتا ہے۔برائیوں سے نفرت اور نیکیاں بجالانے کی طرف رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔رمضان کا مستقل فیض اس کی زندگی میں جاری ہو جاتا ہے اور وہ جہنم سے دور کر دیا جاتا ہے اور دنیاو آخرت میں وہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اس کی جنت سے فیض پاتا ہے۔