خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 410

خطبات مسرور جلد 13 410 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء اس کی رحمت کے دروازے ہم پر کھلتے چلے جائیں گے۔اور جب یہ ہوگا تو پھر ہمیں نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ دیتا چلا جائے گا۔استغفار کی حقیقت " ایک مومن کے لئے مغفرت کی حقیقت کیا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے کیا طریق اختیار کرنا چاہئے اور کس طرح استغفار کرنی چاہیئے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔یہ لفظ غفر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُستَغفِر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لئے۔جو استغفار کرنے والا ہے اس کی جو فطرتی کمزوریاں ہیں ان کو ڈھانک لے اور مستقل استغفار سے پھر اللہ تعالیٰ ڈھانک بھی لیتا ہے۔فرمایا کہ ”لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قومی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے۔یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اور جس طرح بنایا اس کو اپنے خاص سہارے سے محفوظ رکھنے والا بھی ہے۔وہ قیوم بھی ہے۔پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا۔اس لئے انسان کے لئے لازم ہے جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ بگڑنے سے بچاوے“۔( عصمت انبیاء روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 671)۔پس انسان کے لئے ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے۔اس بگڑنے سے بچانے کے لئے ، اللہ تعالیٰ کی قیومیت سے حصہ لینے کے لئے اپنی روحانی حالتوں کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ استغفار کرو۔پس رمضان میں جو ہمیں مغفرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تو اس روح کو سامنے رکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس کی رحمت سے اگر مستقل حصہ لینا ہے تو استغفار کرو۔اللہ تعالیٰ کی مغفرت طلب