خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 403
خطبات مسرور جلد 13 403 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء تو یہ ہے وہ اعلیٰ خلق کہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر آپ نے اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی۔مولوی فضل دین صاحب ہمیشہ اس واقعہ کا تذکرہ کیا کرتے تھے کہ مرزا صاحب عجیب اخلاق کے انسان ہیں کہ ایک شخص ان کی عزت بلکہ جان پر حملہ کرتا ہے اور اس پر اس کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے بعض سوال کئے جاتے ہیں تو آپ فوراً روک دیتے ہیں کہ میں ایسے سوال کی اجازت نہیں دیتا۔(ماخوذ از سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 229-228 روایت نمبر 248) تو یہ ہے وہ مقام جو غیظ کو گھٹانے اور عفو بلکہ احسان کی بھی مثال ہے جو اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی سیرت میں ہمیں نظر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ” وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران : 135 ) یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے“۔مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 460 اشتہار نمبر 129 بعنوان لایق تو جہ گورنمنٹ ، حاشیہ) آپ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ : ”اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان ، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو“۔فرمایا کہ ”میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔چاہئے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بدگوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینہ کو ہرگز نہ بڑھاوے۔جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے۔جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو