خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 382
خطبات مسرور جلد 13 382 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء دکھاتے ہوئے، تکبر کو ختم کرتے ہوئے اپنے معاشرے میں، اپنے گھر میں اپنے ماحول میں جھگڑوں اور فسادوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے امن اور سلامتی کو پھیلانا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں اپنا اُسوہ ہمارے سامنے قائم فرما کے دکھایا اور مختلف مواقع پر نصائح بھی فرمائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ اس حد تک انکساری اختیار کرو کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے۔(صحیح مسلم کتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها باب الصفات التي يعرف بها في الدنيا۔۔۔حدیث نمبر 7210) اس معیار کو جانچنے کے لئے کوئی بیرونی آلہ یا طریقہ نہیں ہے۔ہر ایک شخص اگر وہ حقیقت میں ایمان کا دعوی کرتا ہے تو پھر اس کو اپنا محاسبہ خود ہی کرنا چاہئے۔وہی صیح بتا سکتا ہے کہ کیا ہم فخر سے بالکل پاک ہیں؟ ہمیں اپنے کسی اعلیٰ خاندان ہونے پر فخر تو نہیں ہے۔ہمیں اپنی مالی حالت دوسروں سے بہتر ہونے پر فخر تو نہیں ہے۔ہمیں اپنی اولاد کے تعلیم یافتہ ہونے پر فخر تو نہیں۔ہمیں اپنی علمی قابلیت پر فخر تو نہیں۔ہمیں اپنی کسی نیکی پر فخر تو نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سی عربی کو بھی پر فوقیت نہیں ہے اور نہ بھی کو عربی پر ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 760 حدیث رجل من اصحاب النبی حدیث 23885مطبوعه بيروت 1998ء) یہ اس کے لئے کوئی فخر کا مقام نہیں ہے۔اصل بنیاد تقویٰ ہے اور جس میں تقویٰ ہو اس کے ذہن میں کبھی کسی قسم کا فخر آ ہی نہیں سکتا۔بعض دفعہ علم کا فخر اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ انسان پھر دین سے بھی دور ہٹ جاتا ہے۔دیکھیں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی کی کیا انتہا تھی جب آپ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ اعلان فرماتے ہیں کہ اَنَا سَيَدُ وَلدِ آدَم کہ میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں۔یہ ایک ایسا بڑا اعزاز ہے جو صرف اور صرف ہمارے آقا کو حاصل ہے۔لیکن اس بلندی کو پانے کے بعد کہ جس بلندی تک دوسرا کوئی پہنچ نہیں سکتا ہمارے آقا ایک اور بلندی کی معراج کا اعلان کرتے ہوئے ان الفاظ میں یہ اعلان کرتے ہیں وَلَا فَخْخر۔اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔(سنن ابن ماجه کتاب الزهد باب ذكر الشفاعة حديث 4308) معاشرے کے فساد کو ختم کرنے کے لئے امن اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کے لئے آپ سے عظیم اُسوہ کی ایک اور مثال دیتا ہوں۔ایک مرتبہ ایک یہودی نے حضرت موسیٰ کی فوقیت ثابت کرنے کی کوشش کی تو مسلمان نے سختی سے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سب سے بلند ہے۔اس پر وہ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کرتا ہے کہ اس سے میری دل آزاری ہوئی ہے۔تو تمام