خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 22

خطبات مسرور جلد 13 22 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء بلکہ تمہیں مزید نیکیوں کی توفیق بخشے گا۔پس تم اللہ تعالیٰ کی قدر شناسی کا اندازہ کر ہی نہیں سکتے۔اس قدرشناسی کی کچھ تفصیل مُفلحون کے لفظ کی وضاحت میں بیان ہوگئی ہے۔پس کس قدر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے فیض سے اس طرح فیض پاتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا آج اس دنیا میں احمدی ہی ہیں جنہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا ادراک ہے اور اس وجہ سے احمدی ہی ہیں جو اس فیض سے فیضیاب ہورہے ہیں۔اور یہ صرف کوئی زبانی با تیں ہی نہیں ہیں ایسی سینکڑوں بلکہ ہزاروں مثالیں ہیں جو میرے سامنے وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔جو لوگ مالی قربانیاں کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں ، اور لکھتے ہیں۔وہ ایک تڑپ کے ساتھ یہ قربانیاں کر رہے ہوتے ہیں۔اگر مالی قربانی یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا ادراک نہ ہو تو کون اس طرح تڑپ کے ساتھ مالی قربانی کر سکتا ہے؟ اور پھر یہی نہیں ایسے بھی بہت سے ہیں جو اس مالی قربانی کے بعد فوری طور پر اس تجربے سے بھی گزرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کس طرح بڑھا کر واپس کرتا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے اس پیار کے سلوک کا ان پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھے ہوئے مال کو پھر اسی کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں اور یوں وہ مالی لحاظ سے بھی فضلوں کے حاصل کرنے والے بنتے چلے جاتے ہیں اور جو دوسرے مفادات ہیں، جو دوسرے فیض ہیں وہ بھی ان کو پہنچتے چلے جاتے ہیں۔ایسے بہت سارے واقعات ہیں جو بڑے جذباتی انداز میں احمدی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔کس طرح ان کو قربانی کی توفیق ملی اور ان کی امیدوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ حصہ پانے والے بنے۔ایسے چند واقعات اس وقت میں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔بینن سے ہمارے مبلغ سلسلہ نے لکھا کہ کو تو نوشہر سے ایک معمر احمدی سلمان صاحب ہیں۔مالی لحاظ سے بہت کمزور۔دسمبر میں جلسہ سالانہ بین میں شرکت کے لئے ان کے پاس اتنی حیثیت بھی نہیں تھی کہ خود آنے جانے کا پندرہ سوسیفا کرایہ لگتا ہے وہ دے سکتے۔جلسے میں شرکت کے لئے جب انہیں کہا گیا، زور دیا گیا تو بہر حال کوشش کر کے ایک طرف کا کرایہ خرچ کر کے جلسہ گاہ تو پہنچ گئے مگر واپس جانے کا کرایہ نہیں تھا۔پھر ان کا انتظام کرنا پڑا۔جلسے کے بعد گھر پہنچے۔چار پانچ دن کے بعد جو وقف جدید کے محصلین ہیں وہ چندہ لینے ان کے گھر گئے تو بتایا آپ کے چندہ وقف جدید کی ادائیگی ابھی رہتی ہے جو آپ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔سلمان صاحب نے بڑی بشاشت سے ان کا گھر پر استقبال کیا اور وقف جدید کے چندہ کاسن کے گھر کے اندر گئے اور چھ ہزار فرانک سیفا لا کے دے دیا۔یہ لکھنے والے لکھتے ہیں ان کی حیثیت کے