خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 381

خطبات مسرور جلد 13 381 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء ہے کہ سلاما۔تم ہمارے سے جھگڑے اور فساد کرتے ہو لیکن ہم تمہارے سے جھگڑنے کی بجائے تمہارے لئے سلامتی اور امن کی دعا کرتے ہیں اور خاص طور پر جب اختیار ہاتھ میں ہو، طاقت ہو اور پھر انسان جب ایسا رویہ دکھائے تو یہ ایسا بلند خلق ہے جو بندے کو حقیقی عبد بناتا ہے۔یعنی جب انسان رحمان کا بندہ بننے کے لئے یہ خلق دکھا رہا ہو، اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کے لئے دکھارہا ہو تو پھر ایسے بندے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بن جاتے ہیں اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور یہ لوگ ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کا تزکیہ نفس ہوتا ہے۔وہ پاک نفس ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی حکومت اس دنیا میں قائم کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا میں پیار، محبت اور بھائی چارہ اور عاجزی پھیلے۔ہر قسم کی نیکیاں دنیا میں پھیلیں۔تمام برائیوں کا خاتمہ ہو۔شیطان کے پنجے سے انسانوں کو نجات ملے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اس دنیا کو بھی انسان امن ،سکون اور جنت کا گہوارہ بنا دے اور اس غرض کے لئے اللہ تعالٰی انبیاء کو دنیا میں بھیجتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس تعلیم کے ساتھ ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تا کہ دنیا کو حقیقی عبد رحمان بننے کے اسلوب سکھائیں ، تا کہ دنیا میں رہنے والے انسانوں کو یہ بتائیں کہ ابدی جنت کا ادراک پیدا کرنا ہے اور اسے حاصل کرنا ہے تو پہلے اپنے عملوں کو خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ڈھال کر اس دنیا کو بھی جنت بناؤ۔اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں شامل ہونے کی کوشش کرو جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر : 30 - 31)۔یعنی آ اور میرے بندوں میں داخل ہو جا اور آ اور میری جنت میں داخل ہو جا۔پس رمضان جس میں اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ اس میں دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔(سنن الترمذى كتاب الصوم باب ماجاء فی فضل شهر رمضان حدیث نمبر (682) اور اللہ تعالیٰ بھی بندوں کے قریب تر آ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے۔اللہ تعالیٰ کے نچلے آسمان پر آنے سے مراد ہے کہ نیک عملوں کی بڑھ کر جزا دیتا ہے۔دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔پس ہر ایمان کا دعویٰ کرنے والے کو، ہر احمدی کو جو حقیقی مسلمان ہے جس نے عہد رحمان بننے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی بیعت کی ہے اپنے جائزے لیتے ہوئے، عاجزی