خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد 13 21 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء لئے ، اس کی خاطر نیک مقاصد کی ترقی کے لئے خرچ کرتی ہے اور خرچ کرنے کی خواہشمند ہے۔اسلام کی تبلیغ ہے۔مبلغین کی تیاری اور ان کو میدان عمل میں بھیجنا ہے۔لٹریچر کی اشاعت ہے۔قرآن کریم کی اشاعت ہے۔مساجد کی تعمیر ہے۔مشن ہاؤسز کی تعمیر ہے۔سکولوں کا قیام ہے۔ریڈیو اسٹیشنوں کا مختلف ممالک میں اجراء ہے جہاں سے دین کی تعلیم پھیلائی جاتی ہے۔ہسپتالوں کا قیام ہے۔دوسرے انسانی خدمت کے کام ہیں۔غرض کہ اسی طرح کے مختلف النوع کام ہیں جو حقوق اللہ کی ادائیگی اور حقوق العباد کی ادائیگی سے تعلق رکھتے ہیں جو آج دنیا کے نقشے پر حقیقی اسلامی تعلیم کے مطابق صرف جماعت احمدیہ ہی کر رہی ہے۔یہ اس لئے کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان کر ان کاموں کی روح کو سمجھا ہے۔ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے نفس کی کنجوسی سے بچتے ہوئے ان لوگوں میں شامل ہونے کا ادراک حاصل کیا ہے جن کا شمار مُفْلِحُون میں ہے۔صرف کامیابی اس کے معنی نہیں ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو کشائش پانے والے ہیں۔اس کے معنی میں وسعت ہے۔کامیابیوں سے بہت بڑھ کے اس کی تفصیل ہے۔وہ لوگ جو کشائش پانے والے ہیں جو کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔اپنی نیک خواہشات کی تکمیل کرنے والے ہیں۔وہ لوگ ہیں جو خوشگوار زندگی کو حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے ہیں۔ایسی خوشگوار زندگی جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو۔جن کی زندگیاں خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آجاتی ہیں۔جن کی کشائش کو دوام حاصل ہوتا ہے۔جو مستقل رہتی ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اطمینان حاصل کرنے والے ہیں۔جن پر اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل ہمیشہ نازل ہوتے رہتے ہیں۔مالی قربانی کرنے والوں کی عظمت پس جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کامیابیاں پاتے ہیں ان کی کامیابیاں محدود نہیں ہوتیں بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ان کا میابیوں کی بے انتہا وسعت ہے۔پس کس قدر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس قسم کی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان سے صرف خرچ کا مطالبہ نہیں کیا جارہا بلکہ یہ جوخرچ کرنے والے ہیں یہ تم لوگ ہو۔اور یہ جو خرچ ہے یہ خرچ کرنے والوں کی فلاح کا ایک ذریعہ ہے۔خدا تعالیٰ ادھار نہیں رکھتا۔تمہاری مالی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ اس طرح پیار کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کی اس طرح قدر کرتا ہے جیسے تم نے خدا تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دیا ہو اور جب قرض کی واپسی کا وقت آتا ہے تو خدا تعالیٰ بڑھا کر دیتا ہے اور صرف یہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری اس قربانی کی وجہ سے تمہارے گناہ بخش دے گا اور نہ صرف گناہ بخش دے گا