خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 364
خطبات مسر در جلد 13 364 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء دور تھی اور ہمیں بڑا سفر کر کے آنا پڑتا تھا۔اس کی وجہ سے تھکاوٹ ہو جاتی تھی تو ایسے لوگوں کے لئے بھی جرمنی کی انتظامیہ کو قریب انتظام کرنا چاہئے۔اسی طرح افسر جلسہ سالانہ نے بھی بعض باتیں نوٹ کی ہیں اور اپنی باتیں خود نوٹ کرنا ہی اصل میں بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔اس طرف بھی آئندہ توجہ دینی چاہئے۔ایک تو لوگوں کا گند پھینکنا ، صفائی کا خیال نہ رکھنا، اس طرف آئندہ لوگوں کو خیال رکھنا چاہئے اور ہر ایک کو ایک دوسرے کو صفائی کی طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔پھر کھانے کے بارے میں بھی بعضوں نے کہا۔جبکہ لنگر خانوں میں جو کھانا پکتا ہے وہ ایک طرح کا ہی پک سکتا ہے۔بعضوں کو اعتراض پیدا ہؤا کہ پاستہ (Pasta) وغیرہ نہیں ہے، وہ ہونا چاہئے۔یہاں اصل چیز تو روحانی غذا ہے جو کھانے کے لئے احمدی آتے ہیں۔اس لئے احمدیوں کو اس قسم کی بات نہیں کرنی چاہئے۔جو بھی کھانا ملتا ہے وہ کھا لینا چاہئے۔اور اسی طرح ہوگا کہ ایک ہی کھانا پکے گا۔پھر بعض دفعہ بعض کا رکن بعض معاملات میں سخت ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے تو یہ دیکھ لیا کریں کہ اگر کوئی ضرورتمند ہے اور اس کی ضرورت جائز ہے تو قواعد سے ہٹ کر بھی اگر اس کی کوئی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے تو کر دینی چاہئے۔کارکنوں کو ہمیشہ نرمی اور سہولت کا سلوک کرنا چاہئے۔بہر حال مجموعی طور پر اس دفعہ جلسہ سالانہ کے انتظامات بڑے اچھے تھے۔افسر جلسہ سالانہ اور ان کی ٹیم نے گزشتہ سالوں کی نسبت بہت بہتر کام کیا ہے۔بعض چھوٹی چھوٹی کمیاں بڑے انتظام میں رہ جاتی ہیں ان پر بھی نظر رکھیں تو آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ مزید بہتری پیدا ہوگی۔اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو جزا دے جنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔باوجود اس کے کہ توقع سے زیادہ مہمان آ گئے تھے ان کے لئے بستر بھی مہیا کر دیئے گئے۔پہلے ایک رات مسئلہ پڑا تھا لیکن اگلے دن ٹھیک ہو گیا اور بڑے اچھے طریقے سے حل ہو گیا۔باقی پچھلے سال میں آواز وغیرہ کے معاملے میں جو کمزوریاں تھیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہو گئیں۔بہر حال جیسا کہ میں کارکنان کا شکر یہ ادا کیا کرتا ہوں ان سب کا شکریہ۔اس کے علاوہ دورہ کے دوران بعض مساجد کے افتتاح بھی ہوئے۔ان کا بھی میں مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔آخن میں مسجد کا افتتاح ہوا تو وہاں آخن شہر کے ایک رہائشی اس تقریب میں شامل ہوئے۔کہنے لگے دو تین سال پہلے میں نے یورپین پارلیمنٹ میں بھی خلیفہ اسیح کا خطاب سنا تھا۔آج میں درحقیقت اس غرض سے آیا تھا تا کہ یہ دیکھوں اور موازنہ کروں کہ کیا آپ کے خلیفہ صرف بڑی شخصیات کے سامنے اور