خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 363

خطبات مسرور جلد 13 363 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء بڑے حروف میں لکھے پیغام محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں، پر پڑتی ہے تو پہلا سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا یہ لوگ واقعی مسلمان ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ واقعی مسلمان ہیں۔وہاں کا ماحول عجیب محبت اور یگانگت سے پر ہو اہو ا تھا۔میں نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے جوان، بوڑھے، بچے اور فیملیاں ایک نہایت منظم جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔اس بات نے بھی مجھے بہت متاثر کیا کہ وہاں پر سینکڑوں لوگ بغیر کسی معاوضہ کے رضا کارانہ طور پر کام کر ر ہے ہیں بلکہ جو شخص مجھے کار میں ہوٹل سے جلسہ گاہ لے کر جاتا اس نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی ملازمت سے اس جلسے کے لئے بغیر تنخواہ کے دو ہفتے کی رخصت لی ہے۔پھر میرے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی تقاریر سے بڑا متاثر ہوا ہوں۔سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والی تھیں۔ان الفاظ میں پیار، بھائی چارہ، اتحاد اور یگانگت ملی تو یہ ایک تفصیلی مضمون بھی انہوں نے وہاں شائع کر دیا۔ایک سیرین ڈاکٹر جو جلسے میں شامل تھے کہتے ہیں کہ ایسی منظم تنظیم میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔ہم تو چھ بندوں کو نہیں سنبھال سکتے اور یہاں چالیس ہزار کے قریب لوگ جمع ہیں اور کوئی دھکم پیل نہیں۔میں کہ دل سے حضرت مرزا صاحب اور آپ کے خلیفہ کا احترام اور عزت کرتا ہوں۔کہتے ہیں میں نے براہین احمدیہ مکمل پڑھی ہے۔خدا کی قسم انیسویں صدی میں، نہ عرب میں اور نہ کسی اور ملک میں اسلام کے دفاع میں ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔اللہ تعالیٰ ان کا سینہ بھی کھولے اور قبولیت کی توفیق بھی عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسے کی برکات غیر معمولی ہوتی ہیں۔غیر معمولی اثرات ہوتے ہیں۔بہت کم میں نے بیان کئے ہیں اور جو بیان کئے ہیں ان کو بھی خلاصہ بیان کیا ہے۔اسی طرح بعض مہمانوں نے اپنے بعض تحفظات کا بھی ڈرتے ڈرتے ذکر کیا۔خوبیاں تو بیان کرتے ہیں لیکن جو بعض باتیں توجہ دلانے والی ہوتی ہیں اس طرف مہمان عموماً شرم کی وجہ سے توجہ نہیں دلاتا۔لیکن یہاں دو خواتین ایسی بھی تھیں جن میں ایک البانیا کی ہیں جنہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ عورتوں میں میں نے دیکھا کہ سالن اور روٹی کا ضیاع بہت ہو رہا تھا۔تو جہاں بہت ساری خوبیاں ہیں اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جرمنی کی جو انتظامیہ ہے خاص طور پر لجنہ ان کو چاہئے کہ کھانے والیوں کو توجہ دلاتی رہیں کہ کھانا اور روٹی ضائع نہ کیا کریں۔اسی طرح میسیڈونیا سے آنے والی ایک خاتون نے رہائش کے بارے میں کہا کہ رہائش بہت