خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 19
خطبات مسرور جلد 13 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء پر جرمنی سے برووو (Berove) گئے جہاں شریف دروسکی صاحب نے مرحومہ کے میاں اور اپنے عزیز مکرم جعفر صاحب کو احمدیت کا پیغام پہنچایا جو انہوں نے قبول کر لیا۔مرحومہ کے شوہر نے بتایا کہ ان کی شادی کو گیارہ بارہ سال ہو چکے تھے اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔شاہد صاحب نے حضرت خلیفہ مسیح الرابع ” کی خدمت میں ان کے لئے دعا کا خط لکھا۔اس سے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹا عطا فرمایا۔ابتدا میں یہاں احمدیوں کو مخالفت اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر آپ صبر اور ثابت قدمی سے اپنے ایمان پر قائم رہیں۔قبول احمدیت سے قبل آپ کو نماز نہیں آتی تھی اور احمدی ہو کر آپ نے نماز سیکھی۔مقامی لجنہ میں فعال ممبر کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔مخلص احمدی خاتون تھیں۔نماز سینٹر سے با قاعدہ رابطہ تھا۔جماعتی پروگراموں میں ذوق وشوق سے حصہ لیتی تھیں۔مبلغین کو اپنے گھروں میں بلاتیں۔لوکل زبان میں شائع ہونے والی کتب کا مطالعہ کرتی رہتیں۔مقدونیہ میں ہمارا سینٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی وفات پر غیر احمدیوں کی مسجد میں نہلانے کے لئے لے گئے تو انہوں نے نعش پر قبضہ کر لیا اور مرنے مارنے پر آمادہ ہو گئے اور پھر جنازہ بھی انہوں نے پڑھا اور احمدیوں کو جنازہ نہیں دیا۔احمدیوں نے بعد میں جنازہ غائب پڑھا ہے۔لیکن بہر حال ان کے خاوند نے بڑی ہمت اور حوصلہ دکھایا ہے۔لڑائی نہیں کی۔وہاں فساد پیدا ہو سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کرے۔مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بچے اور خاوند کو بھی جماعت کے ساتھ اخلاص اور وفا میں بڑھاتا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 23 جنوری 2015 ء تا 29 جنوری 2015 ، جلد 22 شماره 04 صفحه 05-09)