خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 324

خطبات مسرور جلد 13 324 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015ء ہیں وہیں وفات ہوئی ہے) اور آپ کا وصال ہو گیا ہے۔ایک دن آپ نے مجھے ایک مکان میں بلا کر فرمایا کہ محموددیکھو یہ دھوپ کیسی زردی معلوم ہوتی ہے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں مجھے تو ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی ہر روز دیکھتا تھا تو میں نے کہا کہ نہیں اسی طرح کی ہے جس طرح ہر روز ہوا کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدھم سی ہے۔قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔چونکہ آپ نے قادیان میں ہی دفن ہونا تھا اس لئے آپ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپ کی محبت اور الفت کا پتا لگتا ہے۔(ماخوذ از انوار خلافت، انوار العلوم جلد 3 صفحہ 175) پھر ایک اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں جو گھڑ سواری سے تعلق رکھتا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سائیکل چلانے اور گھڑ سواری کے مقابلے کا موازنہ کس طرح کیا۔فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک گھوڑی خرید کر دی۔در حقیقت وہ خرید تو نہ کی گئی تھی بلکہ تحفہ بھیجی گئی تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے لڑکوں کو سائیکل پر سواری کرتے ہوئے دیکھا تو میرے دل میں بھی سائیکل کی سواری کا شوق پیدا ہوا۔میں نے اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں کیا۔آپ نے فرمایا مجھے سائیکل کی سواری تو پسند نہیں ، میں تو گھوڑے کی سواری کو مردانہ سواری سمجھتا ہوں۔میں نے کہا اچھا آپ مجھے گھوڑا ہی لے دیں۔آپ نے فرمایا پھر مجھے گھوڑا بھی وہ پسند ہے جو مضبوط اور طاقتور ہو۔اس سے غالباً آپ کا منشاء یہ تھا کہ میں اچھا سوار بن جاؤں گا۔تو آپ نے کپور تھلے والے عبدالمجید خان صاحب کو لکھا کہ اچھا گھوڑا خرید کر بھجوا دیں۔خانصاحب کو اس لئے لکھا کہ ان کے والد صاحب ریاست کے اصطبل کے انچارج تھے اور ان کا خاندان گھوڑوں سے اچھا واقف تھا۔انہوں نے ایک گھوڑی خرید کر تحفہ بھجوا دی اور قیمت نہ لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے تو چونکہ آپ کی وفات کا اثر لازمی طور پر ہمارے اخراجات پر بھی پڑنا تھا اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ اس گھوڑی کو فروخت کر دیا جائے۔( پہلے حصے میں یہ آ گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سواری کی preference پھر آگے حضرت مصلح موعود نے اپنے حالات کا بھی ذکر کیا اور وہ واقعہ اب پورا ہی بیان کر دیتا ہوں کہ اس گھوڑی کو فروخت کر دیا جائے ) تا کہ اس کے اخراجات کا بوجھ والدہ صاحبہ پر نہ پڑے ( کیونکہ اس کے بعد آمد کے ذرائع کم تھے اور حضرت اماں جان اُم المومنین پر بوجھ پڑتا تھا۔)