خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 303
خطبات مسرور جلد 13 303 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء عمر کو کیسے ہی عشرت اور راحت میں بسر کرتے پر آخر ایک دن اس دار فانی سے گزر جاتے اور اس صورت میں نہ وہ عیش اور عشرت ان کی باقی رہتی نہ آخرت کے درجات عالیہ حاصل ہوتے۔نہ دنیا میں ان کی وہ فتوت اور جوانمردی اور وفاداری اور شجاعت شہرہ آفاق ہوتی جس سے وہ ایسے ارجمند ٹھہرے جن کا کوئی مانند نہیں۔اور ایسے لگا نہ ٹھہرے جن کا کوئی ہم جنس نہیں اور ایسے فردالفر ٹھہرے جن کا کوئی ثانی نہیں اور ایسے غیب الغیب ٹھہرے جن تک کسی ادراک کی رسائی نہیں اور ایسے کامل اور بہادر ٹھہرے کہ گویا ہزارہا شیر ایک قالب میں ہیں اور ہزار ہا پلنگ (مطلب چیتے ) ایک بدن میں جن کی قوت اور طاقت سب کی نظروں سے بلند تر ہوگئی اور جو تقرب کے اعلیٰ درجات تک پہنچ گئی۔( یہ ساری چیزیں ہیں جو ظاہر ہوتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے قرب کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جاتی ہیں۔) اور دوسرا حصہ انبیا اور اولیاء کی عمر کانتے ہیں، اقبال میں ، دولت میں بمرتبہ کمال ہوتا ہے تا وہ اخلاق ان کے ظاہر ہو جائیں کہ جن کے ظہور کے لئے فتح مند ہونا ، صاحب اقبال ہونا ، صاحب دولت ہونا ، صاحب اختیار ہونا ، صاحب اقتدار ہونا ، صاحب طاقت ہونا ضروری ہے۔کیونکہ اپنے دکھ دینے والوں کے گناہ بخشا اور اپنے ستانے والوں سے درگزرکرنا اور اپنے دشمنوں سے پیار کرنا اور اپنے بداندیشوں کی خیر خواہی بجالانا۔دولت سے دل نہ لگانا، دولت سے مغرور نہ ہونا ، دولتمندی میں امساک اور بخل اختیار نہ کرنا اور کرم اور خود اور بخشش کا دروازہ کھولنا اور دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلہ ظلم و تعدی نہ بنانا۔(اگر حکومت، طاقت ہاتھ میں آجائے تو اس کی وجہ سے ظلم نہ کرنا ) یہ سب اخلاق ایسے ہیں کہ جن کے ثبوت کے لئے صاحب دولت اور صاحب طاقت ہونا شرط ہے۔اور اسی وقت به پایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب انسان کے لئے دولت اور اقتدار دونوں میسر ہوں۔پس چونکہ بجز زمانہ مصیبت واد با روزمانه دولت و اقتدار ( کمزوری اور مصیبت کا زمانہ اور دولت اور اقتدار کا زمانہ ) یہ دونوں قسم کے اخلاق ظاہر نہیں ہو سکتے۔( یعنی یہ چیزیں، ایسے اخلاق جو ہیں کمزوری کی حالت میں بھی اور فتح کی حالت میں بھی اسی وقت ظاہر ہوتے ہیں جب انسان مصیبت کا زمانہ بھی دیکھے اور دولت اور اقتدار کا زمانہ بھی دیکھے) پھر فرمایا کہ اس لئے حکمت کاملہ ایزدی نے تقاضا کیا کہ انبیاء اور اولیاء کو ان دونوں طور کی حالتوں سے کہ جو ہزار ہا نعمتوں پر مشتمل ہیں متمتع کرے۔لیکن ان دونوں حالتوں کا زمانہ وقوع ہریک کے لئے ایک ترتیب پر نہیں ہوتا۔( دونوں حالتیں ہوتی ہیں لیکن ایک ترتیب نہیں ہوتی ) بلکہ حکمت الہیہ بعض کے لئے زمانہ امن و آسائش پہلے حصہ عمر میں میسر کر دیتی ہے اور زمانہ تکالیف پیچھے سے اور بعض پر پہلے وقتوں میں تکالیف وارد ہوتی ہیں اور پھر آخر کا ر نصرت الہی شامل ہو جاتی ہے اور