خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 301 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 301

خطبات مسرور جلد 13 301 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء چند وہ حوالے پیش کروں، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مقام کے ہمیں دکھائے ہیں۔حیرت ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرنے والا کوئی شخص ان کو سننے اور پڑھنے سے اپنے کان اور آنکھیں بند کر سکتا ہے!؟ بہر حال ان نام نہاد علماء سے ہمیں کوئی غرض نہیں لیکن ایسے ہزاروں وہ لوگ جو ہماری باتیں ایم ٹی اے کے ذریعہ سنتے ہیں ان کے دلوں کو مزید کھولنے کے لئے اور احمدیوں کے دل و دماغ میں مزید جلاء پیدا کرنے کے لئے ، اس کا صحیح ادراک پیدا کرنے کے لئے میں کچھ حوالے پیش کروں گا۔آنحضرت ملا کہ تم پر درود کا پیارا انداز پہلا مثلاً حمد الہی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کا پیارا انداز جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : م الہی تیرا ہزار ہزار شکر کہ تو نے ہم کو اپنی پہچان کا آپ راہ بتایا اور اپنی پاک کتابوں کو نازل کر کے فکر اور عقل کی غلطیوں اور خطاؤں سے بچایا اور درود اور سلام حضرت سید الرسل محمد مصطفی اور ان کی آل و اصحاب پر کہ جس سے خدا نے ایک عالم گم گشتہ کو سیدھی راہ پر چلا یا۔وہ مربی اور نفع رسان کہ جو بھولی ہوئی خلقت کو پھر راہ راست پر لایا۔وہ محسن اور صاحب احسان کہ جس نے لوگوں کو شرک اور بتوں کی بلا سے چھڑا یا۔وہ نور اور نورافشان کہ جس نے توحید کی روشنی کو دنیا میں پھیلا یا۔وہ حکیم اور معالج زمان کہ جس نے بگڑے ہوئے دلوں کا راستی پر قدم جمایا۔وہ کریم اور کرامت نشان کہ جس نے مردوں کو زندگی کا پانی پلایا۔وہ رحیم اور مہربان کہ جس نے امت کے لئے غم کھایا اور درد اٹھایا۔وہ شجاع اور پہلوان جو ہم کوموت کے منہ سے نکال کر لایا۔وہ حلیم اور بے نفس انسان کہ جس نے بندگی میں سر جھکا یا اور اپنی ہستی کو خاک سے ملایا۔وہ کامل موحد اور بحر عرفان کہ جس کو صرف خدا کا جلال بھایا اور غیر کو اپنی نظر سے گرایا۔وہ معجزہ قدرت رحمن کہ جوانی ہو کر سب پر علوم حقانی میں غالب آیا اور ہر ایک قوم کو غلطیوں اور خطاؤں کا ملزم ٹھہرایا۔“ ( براہین احمدیہ حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 17 ) پھر کسی بھی شخص کے اعلیٰ اخلاق کا یا اس کے تکالیف میں مبتلا ہونے سے پتا چلتا ہے یا کشائش میں اور طاقت میں جب اس کو حاصل ہوتی ہے تب پتا چلتا ہے۔اور اس کا سب سے بڑھ کر اظہار اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے خاص مقربوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔اور اس میں بھی سب سے بڑھ کر جو اعلیٰ مقام ہے اس کا اظہار ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نظر آتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق