خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 295

خطبات مسرور جلد 13 295 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015 ء علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کی تصدیق بھی کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ ذہول ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ ذہول کا لفظ میں نے ان سے اسی وقت پہلی دفعہ سنا تھا اور وہ یہ بات بار بار اس طرح کہتے کہ جس سے ہنسی آتی۔( ذہول کا مطلب ہوتا ہے غلطی ہوگئی یا غفلت ہو گئی۔افسوس کا اظہار بھی کرتے چلے جاتے تھے اور پھر ساتھ کہتے بھی جاتے تھے کہ ذہول ہو گیا۔) بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تھوڑی دیر بعد معاف کر دیا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ موجود ہے۔پس ہمیشہ اس بات کی احتیاط کرنی چاہئے لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ان گالیوں کو بعد میں ہم کتاب کی صورت میں شائع کر دیں کیونکہ یہ گالیاں پڑنا بھی سلسلہ کی تائید کا ایک حصہ ہیں۔یہ ہر ایک کا کام نہیں کہ وہاں جائے اور لوگ جو کرتے ہیں یا جو وہ سنتے ہیں اسے اپنے ریکارڈ میں محفوظ کر لیں لیکن اس وقت اس مجلس میں جانا یا بیٹھنا اس مجلس کے اعزاز کو بڑھانا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ جو مخالفین ہمارے بارے میں لکھتے ہیں ہم یہ لکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو ان باتوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے مگر مجلس میں جا کر بیٹھنے سے نہ آئندہ نسلوں کو کوئی فائدہ ہے اور نہ موجودہ زمانے کے لوگوں کو۔اور جو ایسی مجلس میں جاتے ہیں وہ غیرت کو پامال کرتے ہیں۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس سے احتیاط کریں ، ایسی مجالس میں کوئی نہ جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 298 تا300) پس یہ بات ہمارے بڑوں کو بھی اور نو جوانوں کو بھی آج بھی یا درکھنی چاہئے اور ایسی مجالس سے قرآنی حکم کے مطابق بھی اٹھ کر آ جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں صحیح فیصلے کرنے اور صحیح راستے پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ضمنا ئیں پچھلے خطبہ کے حوالے سے ایک بات اور بھی کہہ دوں۔گزشتہ خطبہ میں میں نے کھانسی دور ہونے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان کیا تھا۔اس کے بعد ایک صاحب نے لکھا کہ میں نے خطبہ میں یہ پڑھا ہے کہ وہاں کیلے کا ذکر نہیں سیب کا ذکر ہے۔بہر حال الہام پورا ہونا تھا وہ ہو گیا لیکن یہ دونوں ذکر آتے ہیں اور اس سیب کے ذکر میں بھی آپ نے یہ فرمایا کہ پہلے آپ نے کیلا کھایا۔کھا رہے تھے کہ میں نے روکا تو رک گئے لیکن تھوڑی دیر کے بعد سیب کھانا شروع کر دیا جو حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب لے کر آئے تھے اور اتنا کھٹا سیب تھا کہ اچھے بھلے انسان کو اس سے کھانسی ہو سکتی ہے۔لیکن آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ کھانسی دور ہو گئی۔اس