خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 294
خطبات مسرور جلد 13 294 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015 ء ہی کیوں ہو۔تمہارا وہاں جانا بتا تا ہے کہ تمہارے اندر غیرت نہیں یا ادنی درجہ کی غیرت ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں آریوں نے لاہور میں ایک جلسہ کیا اور آپ سے خواہش کی کہ آپ بھی مضمون لکھیں جو وہاں پڑھا جائے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ان لوگوں کی عادت کو جانتے ہیں یہ ضرور گالیاں دیں گے۔اس لئے ہم ان کے کسی جلسہ میں حصہ نہیں لیتے۔مگر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور لاہور کے بعض دوسرے لوگ جن کی خوشامد وغیرہ کر کے آریوں نے انہیں آمادہ کر لیا ہوا تھا کہنے لگے کہ اب چونکہ ملک میں سیاسی تحریک شروع ہوئی ہے اس لئے آریوں کا رنگ بدل گیا ہے۔آپ ضرور مضمون لکھیں اس سے اسلام کو بہت فائدہ ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کراہت کے باوجودان کی بات مان لی اور مضمون رقم فرمایا اور حضرت خلیفتہ اسیح الا ول کو پڑھنے کے لئے لاہور بھیجا۔آپ فرماتے ہیں میں بھی ساتھ گیا اور بھی بعض دوست گئے۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون پڑھا گیا جس میں سب باتیں محبت اور پیار کی تھیں۔اس کے بعد ایک آریہ نے مضمون پڑھا جس میں شدید گالیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تھیں اور وہ تمام گندے اعتراضات کئے گئے تھے جو عیسائی اور آریہ کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ مجھے آج تک اپنی اس غفلت پر افسوس ہے۔میرے ساتھ ایک اور صاحب بیٹھے تھے ٹھیک یاد نہیں کون تھے۔جب آریہ لیکچر رنے سخت کلامی شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے کہا میں یہ نہیں سن سکتا اور جاتا ہوں۔مگر اس شخص نے جو میرے پاس بیٹھا تھا کہا کہ حضرت مولوی صاحب اور دیگر علمائے سلسلہ بیٹھے ہیں۔اگر اٹھنا مناسب ہوتا تو وہ نہ اٹھتے۔میں نے کہا ان کے دل میں جو ہو گا وہ جانتے ہوں گے مگر میں نہیں بیٹھ سکتا۔مگر اس نے کہا راستے سب بند ہیں۔دروازوں میں لوگ کھڑے ہیں۔آپ درمیان سے اٹھ کر گئے تو شور ہوگا اور فساد پیدا ہوگا۔چپکے سے بیٹھے رہو۔میں ان کی باتوں میں آ گیا اور بیٹھا رہا۔مگر مجھے آج تک افسوس ہے کہ جب ایک نیک تحریک میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی تھی تو میں کیوں نہ اٹھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ سنا کہ جلسے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئی ہیں تو آپ سخت ناراض ہوئے اور حضرت خلیفہ اول پر بھی بڑے ناراض ہوئے کہ کیوں نہ آپ لوگ پروٹسٹ کرتے ہوئے ، احتجاج کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر آ گئے۔کسی طرح آپ کو یہ گوارا نہیں کرنا چاہئے تھا۔تو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام بار بار نا راضگی کا اظہار فرمارہے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد احسن صاحب جلسے میں نہیں گئے تھے مجھے یاد ہے کہ چلتے چلتے وہ حضرت مسیح موعود