خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 293
خطبات مسرور جلد 13 293 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء کا ختم کیا گیا۔مخالف اور موافق سب نے بالا تفاق کہا کہ حضرت مسیح موعود کا لیکچر سب سے بالا رہا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات پوری ہوئی۔مگر اس زبر دست پیشگوئی کو خواجہ صاحب کی کمزوری ایمان نے پوشیدہ کر دیا۔اب ہم ان واقعات کو سناتے ہیں مگر کجا ہمارے سنانے کا اثر اور کجاوہ اثر جو اس اشتہار کے قبل از وقت شائع کر دینے سے ہوتا۔اس صورت میں اس پیشگوئی کو جواہمیت حاصل ہوتی ہر ایک شخص بخوبی ذہن میں لاسکتا ہے“۔آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد 6 صفحہ 181-182) کہتے ہیں خواجہ صاحب بڑے پڑھے لکھے تھے، وکیل تھے لیکن جب تکبر پیدا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی بات کے آگے انسان اپنی عقل کو کچھ سمجھنے لگے تو انسان کی عقل پہ ایسا پردہ پڑتا ہے جو انسان کو بالکل بے عقل کر دیتا ہے اور کسی کام کا نہیں رہنے دیتا۔یہ مضمون تو ایسا ہے کہ آج بھی جب ہم پڑھے لکھے غیروں کو یہ دیتے ہیں تو اس کو پڑھ کے وہ اس کی علمی حیثیت اور اسلام کی تعلیم سے متاثر ہو جاتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں کہ جب ان سے پوچھتا ہوں کس طرح احمدیت قبول کی ؟ تو وہ بتاتے ہیں کہ ہم نے اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھ کے احمدیت قبول کی۔لیکن خواجہ صاحب کے نزدیک یہ استہزاء کا موجب بن سکتا تھا اور پھر ڈھٹائی اتنی کہ ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں ہونے کا دعوی لیکن ساتھ ہی آپ کے حکم پر عمل بھی نہیں ہو رہا لیکن بعد میں لوگوں نے جو اس کی تعریف کی تو اللہ تعالیٰ کے فعل نے خود ہی ان کے منہ پر ایک طمانچہ لگا دیا۔پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ احمدیوں میں کس قسم کی دینی غیرت ہونی چاہئے؟ حضرت مصلح موعود نے ایک واقعہ بیان کیا۔آپ کو کوئی رپورٹ پہنچی تھی کہ بعض لوگ ایسی جگہ گئے ہیں جہاں جماعت کو، بزرگوں کو غیر علماء گالیاں دے رہے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ اول تو یہ سوال کہ جہاں گالیاں دی جاتی ہیں وہاں انسان جائے ہی کیوں۔جہاں مخالف لوگ تقریریں کرتے ہیں اور بعض احمدی سننے چلے جاتے ہیں۔ان کا وہاں جانا ہی بتاتا ہے کہ وہ حقیقی غیرت کے مقام پر نہیں ہیں کیونکہ کبھی کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ فلاں مقام پر میرے باپ کو گالیاں دی جا رہی ہیں میں جا کرسن آؤں؟ یا کوئی کسی کو اطلاع دے کہ فلاں جگہ تمہاری ماں کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور وہ جھٹ جوتا ہاتھ میں پکڑ کر بھاگ اٹھے کہ سنوں ، کیسی چٹخارے دار گالیاں دی جاتی ہیں؟ اگر تمہارے اندر حقیقی غیرت ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا اپنے امام اور دوسرے بزرگوں کے متعلق گالیاں سننے کے لئے جاتے