خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد 13 292 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی نہیں کرتے۔لیکن بعض دفعہ ایسی باتیں آتی ہیں کہ یہاں بھی بعض لوگ پھول وغیرہ چڑھاتے ہیں اور یہ بے مقصد فعل ہیں۔ہماری قبروں پہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ایک اور واقعہ جس کا حضرت مصلح موعود نے ذکر فرمایا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کے لکھے جانے اور پڑھے جانے سے متعلق ہے وہ بھی عجیب واقعہ ہے اور اس سے بعض ٹیڑھے لوگوں کی فطرت کا پتا لگتا ہے۔یہ نہیں کہ بعد میں ٹیڑھے ہوتے ہیں شروع سے ہی ٹیڑھے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے انجام بھی پھر صحیح نہیں رکھتا۔آپ فرماتے ہیں کہ 1897ء میں جب لاہور میں جلسہ اعظم کی بنیاد پڑی اور حضرت مسیح موعود کو بھی اس میں مضمون لکھنے کے لئے کہا گیا تو خواجہ صاحب ہی یہ پیغام لے کر آئے تھے۔حضرت مسیح موعود کو ان دنوں میں اسہال کی تکلیف تھی۔باوجود اس تکلیف کے آپ نے مضمون لکھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ختم کیا۔مضمون جب خواجہ صاحب کو حضرت مسیح موعود نے دیا تو انہوں نے اس پر بہت کچھ نا امیدی کا اظہار کیا اور خیال ظاہر کیا کہ یہ مضمون قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا جاوے گا اور خوامخواہ ہنسی کا موجب ہوگا۔مگر حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے بتایا تھا کہ مضمون بالا رہا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے قبل از وقت اس الہام کے متعلق اشتہار لکھ کر لاہور میں شائع کرنا مناسب سمجھا اور اشتہار لکھ کر خواجہ صاحب کو دیا کہ اسے تمام لاہور میں شائع اور چسپاں کیا جائے اور خواجہ صاحب کو بہت کچھ تسلی اور تشفی بھی دلائی۔مگر خواجہ صاحب چونکہ فیصلہ کئے بیٹھے تھے کہ مضمون نعوذ باللہ لغو اور بیہودہ ہے انہوں نے نہ خود اشتہار شائع کیا نہ لوگوں کو شائع کرنے دیا۔آخر حضرت مسیح موعود کا حکم بتا کر جب بعض لوگوں نے خاص زور دیا تو رات کے وقت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر چند اشتہار دیواروں پر اونچے کر کے لگا دیئے گئے تاکہ لوگ ان کو پڑھ نہ سکیں اور حضرت مسیح موعود کوبھی کہا جا سکے کہ ان کے حکم کی تعمیل کر دی گئی ہے کیونکہ خواجہ صاحب کے خیال میں وہ مضمون جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ بالا رہا اس قابل نہ تھا کہ اسے ایسے بڑے بڑے محققین کی مجلس میں پیش کیا جائے۔آخر وہ دن آیا جس دن اس مضمون کو سنایا جانا تھا۔مضمون جب سنایا جانا شروع ہوا تو ابھی چند منٹ نہ گزرے تھے۔( ہم سب جانتے ہیں کہ جس طرح تاریخ میں ذکر آتا ہے ) لوگ بت بن گئے اور ایسا ہوا گو یا ان پر سحر کیا ہوا ہے۔وقت مقررہ گزر گیا۔مگر لوگوں کی دلچسپی میں کچھ کمی نہ آئی اور وقت بڑھایا گیا مگر وہ بھی کافی نہ ہوا۔آخر لوگوں کے اصرار سے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا گیا اور اس دن بقیہ لیکچر حضرت مسیح موعود