خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 283
خطبات مسرور جلد 13 283 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء جایا کرتے تھے۔اس پر چڑھنے کے لئے جن سیڑھیوں پر ہمیں چڑھنا پڑتا تھا وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے پاس سے چڑھتی تھیں۔اس وقت ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں آ کر احمدی بھی ہو گئیں مجھے دیکھ کر کہا کرتی تھیں کہ ”جیو جیا کاں او ہو جئی کو کو۔میں بوجہ اس کے کہ میری والدہ ہندوستانی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ بچپن میں زیادہ علم نہیں ہوتا اس پنجابی فقرے کے معنی نہیں سمجھ سکتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جیسا کوا ہوتا ہے ویسے ہی اس کے بچے ہوتے ہیں۔کوے سے مراد ( نعوذ باللہ ) تمہارے ابا ہیں اور کوکو سے مراد تم ہو۔(آپ فرماتے ہیں کہ دیکھو ) مگر پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا کہ وہی تائی صاحبہ ( جو یہ سب کچھ کہا کرتی تھیں) اگر کبھی میں ان کے ہاں جاتا تو بہت عزت سے پیش آتیں۔میرے لئے گدا بچھا تیں اور احترام سے بٹھا تیں اور ادب سے متوجہ ہوتیں اور اگر میں کہتا کہ آپ کمزور ہیں، ضعیف ہیں، بلیں نہیں یا کوئی تکلیف نہ کریں تو وہ کہتیں کہ آپ میرے پیر ہیں۔گویا وہ زمانہ بھی دیکھا جب میں کو کو تھا اور وہ بھی جب میں پیر بنا۔اور ان ساری چیزوں کو دیکھ کر ت سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ جب دنیا کو بدلنا چاہتا ہے تو کس طرح بدل دیتا ہے۔پس ان انسانوں کو دیکھو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کرو کہ جو تمہیں خدا تعالیٰ کا محبوب بنادے اور تم حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ۔(ماخوذ از الفضل 13 اپریل 1938 صفحہ 9 جلد 26 نمبر 85) قادیان کی ترقی اور اس کی پیشگوئی پس جیسا کہ میں نے کہا یہ واقعات جو ایمان میں تازگی اور ترقی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔یہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے والے ہونے چاہئیں۔یہ ہمیں بتانے والے ہونے چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہیں ہم نے بھی ان سے حصہ لینا ہے۔اور قادیان کے رہنے والے احمدیوں کو بھی خاص طور پر اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ہم میں سے بہت سے اس بات کو جانتے ہیں اور اس بات کا ذکر بھی ہوتا رہتا ہے۔گزشتہ کچھ خطبوں میں میں نے واقعات بھی بیان کئے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ قادیان ترقی کرے گا۔اور اس کا پھیلاؤ دریائے بیاس تک ہو جائے گا۔یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک رؤیا کی بنیاد پر کی تھی۔اب مسجد مبارک کی حالت کا اور نمازیوں کی تعداد کا یہ نقشہ جو حضرت مصلح